پاکستانتازہ ترین

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اے آئی، ڈیٹا گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں جامع شراکت داری کے امکانات پر بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ، پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں لیپ 2026 میں سعودی مارکیٹ میں توسیع کے مواقع تلاش کرنے لگیں

سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان اور سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا گورننس اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں وسیع تر تعاون اور جامع شراکت داری کے امکانات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق دونوں برادر ممالک کے درمیان ڈیجیٹل معیشت، مضبوط ڈیٹا ایکو سسٹم اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں طویل المدتی اور پائیدار تعاون کے فروغ کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے ٹیکنالوجی تجارتی روابط اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت میں مستقل جگہ بنانے، نئے کلائنٹس حاصل کرنے اور مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

ریاض میں جاری بین الاقوامی ٹیکنالوجی نمائش لیپ 2026 اس حوالے سے پاکستانی کمپنیوں کے لیے اہم پلیٹ فارم بن کر سامنے آئی ہے، جہاں متعدد پاکستانی ٹیکنالوجی فرمز سعودی مارکیٹ میں کاروباری مواقع، سرمایہ کاری، نئی شراکت داریوں اور مستقل آپریشنز کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔

شزا فاطمہ اور سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے سربراہ کی ملاقات

پاکستان کی وزارتِ آئی ٹی کے مطابق وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ریاض میں لیپ 2026 کے موقع پر سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی، ایس ڈی اے آئی اے، کے صدر عبداللہ بن شرف الغامدی سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مینجمنٹ، ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ آئی ٹی کے بیان کے مطابق شزا فاطمہ خواجہ نے سعودی حکام کو مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا گورننس کے قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ایک مضبوط اور جدید ڈیٹا ایکو سسٹم کی تشکیل اور ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا گورننس اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع اور پائیدار شراکت داری کے قیام کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

باضابطہ منصوبوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں

وزارتِ آئی ٹی کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ تعاون کے تحت کون سے مخصوص منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ممکنہ باضابطہ معاہدے یا مفاہمتی یادداشت کے لیے کوئی ٹائم لائن دی گئی ہے۔

تاہم، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مصنوعی ذہانت، ڈیٹا مینجمنٹ، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سائبر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز، سمارٹ گورنمنٹ اور دیگر جدید شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی ٹیکنالوجی مارکیٹ خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مملکت بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، آئی ٹی سروسز، فِن ٹیک اور ڈیجیٹل حل فراہم کرنے والی کمپنیوں کی ایک وسیع صلاحیت موجود ہے۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سعودی عرب میں توسیع کی کوششیں

دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی نجی شعبہ بھی سعودی عرب میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ لیپ کے سابقہ ایڈیشنز میں شرکت نے انہیں سعودی مارکیٹ کو سمجھنے، مقامی کاروباری ماحول سے واقفیت حاصل کرنے اور طویل المدتی صنعتی روابط قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔

کراچی میں قائم بائٹ کارپوریشن ٹیکنالوجیز کے سربراہ عبدالمقسط عباسی نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی مسلسل کئی سال سے لیپ میں شرکت کر رہی ہے اور ہر نئے ایڈیشن میں کاروباری اور صنعتی روابط کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق سابقہ شرکتوں کے دوران کمپنی نے سعودی عرب اور خطے کی ٹیکنالوجی مارکیٹ کو بہتر طور پر سمجھنے کے ساتھ ایسے روابط قائم کیے، جنہوں نے مستقبل کے کاروباری امکانات کے لیے نئے دروازے کھولے۔

عباسی کا کہنا تھا کہ لیپ جیسے بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے اہم ہیں جو پہلی مرتبہ سعودی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ ایسے پروگرام کمپنیوں کو نہ صرف ممکنہ کلائنٹس سے رابطے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ مقامی کاروباری ضروریات، مارکیٹ کے رجحانات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو سمجھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان کی ریکارڈ شرکت

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ سال لیپ میں اپنی اب تک کی سب سے بڑی شرکت ریکارڈ کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور تقریباً 1,500 سے زیادہ مندوبین نے اس اہم ٹیکنالوجی ایونٹ میں شرکت کی۔ پاکستان کی اس شرکت کے نتیجے میں لاکھوں ڈالر مالیت کے کاروباری مواقع پیدا ہوئے اور متعدد ممکنہ کاروباری روابط، یا لیڈز، حاصل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی کمپنیوں کی شرکت کے ذریعے تقریباً 9.74 ملین ڈالر کا کاروبار حاصل ہوا جبکہ 78 کاروباری لیڈز سامنے آئیں۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی خطہ پاکستانی آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ بنتا جا رہا ہے۔

لیپ 2026 میں پاکستان کا خصوصی پویلین

رواں سال لیپ 2026 میں پاکستان نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، ٹی ڈی اے پی، کے تعاون سے 20 پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل ایک خصوصی پویلین قائم کیا ہے۔

اس پویلین کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات، ڈیجیٹل حل، سافٹ ویئر سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کو عالمی اور علاقائی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر سکیں۔

اس کے علاوہ متعدد پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس آزادانہ طور پر بھی اس ایونٹ میں شریک ہیں اور سعودی عرب میں ممکنہ کاروباری شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔

پاکستانی کمپنیوں کے لیے لیپ کی اہمیت صرف چند روزہ نمائش تک محدود نہیں بلکہ اس پلیٹ فارم کو سعودی عرب میں مستقل کاروباری موجودگی قائم کرنے کے ایک ممکنہ راستے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

سابقہ شرکت سے مستقل کاروباری موجودگی تک

کئی پاکستانی کمپنیوں کے لیے لیپ کے سابقہ ایڈیشنز میں شرکت محض ایک نمائشی سرگرمی نہیں رہی بلکہ اس کے نتیجے میں سعودی عرب میں مستقل کاروباری روابط اور آپریشنز کے امکانات پیدا ہوئے۔

بعض کمپنیوں نے سابقہ ایڈیشنز کے دوران سعودی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطے قائم کیے، جبکہ دیگر کمپنیاں اب خاص طور پر سعودی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات اور ڈیجیٹل خدمات تیار کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سعودی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو مقامی ضروریات، عربی زبان، ڈیجیٹل قوانین، ڈیٹا سے متعلق ضوابط اور سرکاری و نجی شعبے کی ترجیحات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

وژن 2030 اور سعودی ڈیجیٹل معیشت

سعودی عرب نے اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر مختلف شعبوں میں وسعت دینے کے لیے وژن 2030 کے تحت بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے ہیں۔

ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل خدمات اور جدید انفراسٹرکچر سعودی وژن 2030 کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔ مملکت سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، سمارٹ سٹیز، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی معیشت کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی وجہ سے سعودی عرب کی ٹیکنالوجی مارکیٹ بین الاقوامی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستانی کمپنیوں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا موقع ہے کیونکہ پاکستان میں نوجوان ٹیکنالوجی ماہرین، سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں اور اسٹارٹ اپس کی ایک وسیع تعداد موجود ہے۔

اگر دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی تعاون مزید مضبوط ہوتا ہے تو اس سے پاکستانی کمپنیوں کے لیے سعودی مارکیٹ تک رسائی کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کے لیے اہم موقع

پاکستان گزشتہ چند برسوں سے آئی ٹی اور سافٹ ویئر برآمدات کو قومی معیشت کے ایک اہم شعبے کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی عرب جیسے بڑے اور تیزی سے ڈیجیٹلائز ہونے والے بازار کے ساتھ روابط میں اضافہ پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستانی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب صرف خدمات فروخت کرنے کی مارکیٹ نہیں بلکہ مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری، مقامی دفاتر کے قیام اور طویل المدتی کاروباری شراکت داری کے امکانات بھی فراہم کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا گورننس کی شمولیت اس شراکت داری کو محض تجارتی تعاون سے آگے لے جا سکتی ہے۔

مستقبل میں تعاون کے وسیع امکانات

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اے آئی، ڈیٹا گورننس اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب اپنی معیشت کو ڈیجیٹل اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنے وسیع ٹیکنالوجی ٹیلنٹ اور آئی ٹی صنعت کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس تناظر میں لیپ 2026 پاکستانی کمپنیوں اور حکومتی نمائندوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہا ہے جہاں ایک جانب کاروباری معاہدوں اور نئے کلائنٹس کی تلاش جاری ہے، تو دوسری جانب دونوں ممالک کی حکومتیں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا گورننس جیسے مستقبل کے اہم شعبوں میں طویل المدتی تعاون کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مستقبل کی اس ممکنہ شراکت داری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ جاری مذاکرات کو کس حد تک عملی منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ ڈیجیٹل اقدامات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

تاہم موجودہ پیش رفت سے یہ واضح ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ روایتی اقتصادی اور تجارتی تعلقات سے آگے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا، ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کو دوطرفہ تعاون کے نئے ستونوں کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی سعودی عرب کی تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹل معیشت میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہو چکی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button