پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

فیک نیوز اور کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنانے والوں کو عدالت میں جواب دینا ہوگا: عظمیٰ بخاری

جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے خاتون کو نشانہ بنانا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ عزت و وقار پر حملہ ہے، پنجاب کی وزیر اطلاعات کا مؤقف

سید عاطف ندیم-ادارت

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فیک نیوز، جھوٹ، جعلی ویڈیوز اور کردار کشی کو سیاسی اختلاف کا نام دے کر استعمال کرنے والوں کو اب عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی خاتون کی عزت، کردار اور وقار کو جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنانا محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ اس کی عزت و وقار پر براہِ راست حملہ ہے، جس کا فیصلہ قانون اور عدالت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات، من گھڑت مواد اور کردار کشی کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اب قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس معاملے میں حقائق عدالت کے سامنے رکھے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود عدالت سے یہ استدعا کر چکی ہیں کہ ملزمہ فلک جاوید کو جیل سے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کی موجودگی میں ان کا بیان ریکارڈ کرایا جا سکے اور قانونی کارروائی براہِ راست آگے بڑھ سکے۔

فلک جاوید کو عدالت میں پیش کرنے کی خود درخواست کی، عظمیٰ بخاری

صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق عدالتی حکم کے تحت انہوں نے خود عدالت سے درخواست کی کہ ملزمہ فلک جاوید کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ ملزمہ کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں اور اس کے بعد جرح کے مرحلے کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جرح کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھیں اور عدالت میں خاصا وقت انتظار کرتی رہیں تاکہ ملزمہ کو پیش کیا جا سکے اور قانونی کارروائی آگے بڑھ سکے۔

تاہم ان کے مطابق ملزمہ کے وکلاء کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی، جس کے باعث جرح کا مرحلہ ایک بار پھر آگے نہ بڑھ سکا۔

12 ستمبر کو جرح کا آخری موقع

عظمیٰ بخاری کے مطابق عدالت نے اب اس معاملے میں واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے 12 ستمبر 2026ء صبح 10 بجے جرح کے لیے آخری موقع مقرر کیا ہے اور مزید التوا نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ملزمہ کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مقررہ سماعت پر بھی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی تو عدالت کی جانب سے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیے جانے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اس طرح مقدمے میں ایک اہم مرحلہ اب آئندہ سماعت پر مکمل ہونے کی توقع ہے۔

جرح کے مرحلے کو اہم پیش رفت قرار

قانونی کارروائی میں جرح ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے جہاں فریقِ مخالف کو گواہ یا متعلقہ شخص کے بیان کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے کے لیے تیار ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اب معاملے کو مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق عدالت کی جانب سے آخری موقع دیے جانے کے بعد اب اصل توجہ حقائق کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے اور قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے پر ہونی چاہیے۔

فیک نیوز اور جھوٹی ویڈیوز پر سخت ردعمل

وزیر اطلاعات پنجاب نے فیک نیوز اور جعلی ویڈیوز کے معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو کسی کی ذاتی عزت اور کردار پر حملے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے نشانہ بنانا محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ خواتین کی عزت، وقار اور شخصی حرمت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اختلافِ رائے کو کسی فرد کے خلاف جھوٹا مواد تیار کرنے، اسے پھیلانے یا اس کی کردار کشی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق ایسے اقدامات معاشرے میں نہ صرف نفرت اور انتشار کو بڑھاتے ہیں بلکہ خواتین کے لیے سیاسی اور عوامی زندگی میں مشکلات بھی پیدا کرتے ہیں۔

"یو ٹیوبرز اور پراپیگنڈا سیل کے لیے ڈوب مرنے کا مقام”

عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں یوٹیوبرز اور مبینہ پراپیگنڈا سیلز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں پیش ہونے والی صورتحال اور قانونی کارروائی کے حقائق سامنے آنے کے بعد جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے لیے یہ صورتحال باعثِ شرمندگی ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے کسی فرد کے خلاف بغیر تصدیق مواد نشر کرتے ہیں، انہیں اس کے نتائج کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔

وزیر اطلاعات نے خاص طور پر اس امر پر زور دیا کہ عدالتی کارروائی کے بارے میں غلط رپورٹنگ یا یک طرفہ تاثر پیدا کرنے کی کوششیں بھی قابلِ اعتراض ہیں۔

عدالتی کارروائی میں خلل اور غلط رپورٹنگ کا معاملہ

عظمیٰ بخاری کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران غلط رپورٹنگ اور کارروائی میں خلل ڈالنے سے متعلق معاملہ بھی عدالت کے سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسی بدنظمی آئندہ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے اس حوالے سے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی عمل کو متاثر کرنا یا اس کے دوران نظم و ضبط خراب کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے کیونکہ عدالت میں ہونے والی کارروائی کا مقصد حقائق اور قانونی نکات کو سامنے لانا ہوتا ہے۔

دفعہ 352(1) کے تحت کارروائی کا دعویٰ

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف دفعہ 352(1) ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

ان کے مطابق اس معاملے میں اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اب جرح ہوگی، حقائق سامنے آئیں گے اور جھوٹ و کردار کشی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

تاہم اس معاملے میں حتمی قانونی حیثیت اور کسی بھی فرد کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ عدالت کے فیصلے اور مکمل عدالتی کارروائی کی بنیاد پر ہی ہوگا۔

سیاسی اختلاف اور کردار کشی میں فرق

صوبائی وزیر اطلاعات نے سیاسی اختلاف اور کردار کشی کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان اختلاف رائے فطری عمل ہے۔

تاہم ان کے مطابق سیاسی اختلاف کو ذاتی حملوں، جھوٹی معلومات اور جعلی مواد کے ذریعے کسی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

سیاسی ماحول میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث یہ مسئلہ مزید اہم ہو گیا ہے، کیونکہ کسی بھی جعلی ویڈیو یا غیر مصدقہ دعوے کو چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی اور پیشہ ورانہ سطح پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا اور فیک نیوز کا بڑھتا ہوا چیلنج

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا سیاسی ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں، رہنما، کارکن اور عام شہری اپنے مؤقف کی تشہیر کے لیے مختلف پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی غلط معلومات، جعلی ویڈیوز، ایڈیٹ شدہ کلپس اور سیاق و سباق سے ہٹ کر مواد کے پھیلاؤ کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔

کسی ویڈیو یا تصویر کو اصل واقعے سے جوڑے بغیر یا اس کے پس منظر کی تصدیق کیے بغیر نشر کرنے سے غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں صحافتی اداروں، سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی کارکنوں کے لیے معلومات کی تصدیق کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے۔

خواتین سیاست دانوں کی عزت اور آن لائن حملے

عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں خاص طور پر خواتین کے خلاف مبینہ کردار کشی کو موضوع بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر جھوٹی ویڈیوز یا منفی مہم کے ذریعے نشانہ بنانا ایک سنگین معاملہ ہے۔

پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت پہلے ہی مختلف سماجی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرتی ہے۔ ایسے میں اگر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہم چلائی جائے تو اس کے اثرات ان کی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق ایسے معاملات کو سیاسی تنازع سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔

عدالت میں حقائق سامنے آنے کا انتظار

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اب معاملہ عدالت میں ہے اور قانونی کارروائی کے ذریعے حقائق سامنے آئیں گے۔

ان کے مطابق وہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور جرح کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ مقدمہ مزید غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو اور جو بھی حقائق ہیں وہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ سوشل میڈیا کی بحث یا سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

التوا کی درخواستوں پر اعتراض

صوبائی وزیر اطلاعات نے ملزمہ کے وکلاء کی جانب سے دوبارہ سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر بھی اعتراض کیا۔

ان کے مطابق وہ خود عدالت میں موجود تھیں اور جرح کے لیے تیار تھیں، لیکن سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

اب عدالت کی جانب سے 12 ستمبر کو آخری موقع دیے جانے کے بعد مقدمے میں آئندہ مرحلہ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

اگر مقررہ تاریخ پر فریقین مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوتے ہیں تو جرح کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مقدمے کی کارروائی مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔

حکومت کا فیک نیوز کے خلاف سخت مؤقف

عظمیٰ بخاری کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت فیک نیوز اور سیاسی کردار کشی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جھوٹ اور کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنانے والے افراد کو اب عدالت میں جواب دینا ہوگا۔

حکومت کے مطابق سیاسی اختلاف کے نام پر جھوٹا مواد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر کسی فرد کی عزت و ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی مواد استعمال کیا گیا ہے تو اس کا جائزہ قانون کے مطابق لیا جانا چاہیے۔

"اب مزید تاخیر نہیں، جرح ہوگی”

عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جرح ہوگی، حقائق سامنے آئیں گے اور فیک نیوز و کردار کشی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدالت نے بھی آئندہ کارروائی کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مزید بدنظمی یا غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

معاملے کی آئندہ سمت

اب اس کیس میں 12 ستمبر 2026ء صبح 10 بجے ہونے والی سماعت خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس تاریخ کو ملزمہ کے وکلاء کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونا ہوگا اور جرح کا مرحلہ آگے بڑھایا جائے گا۔

اگر کسی وجہ سے ملزمہ کو عدالت میں پیش نہ کیا جا سکا تو، عظمیٰ بخاری کے مطابق، ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیے جانے کا امکان موجود ہے۔

یوں معاملہ اب سوشل میڈیا کے بیانات سے نکل کر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں فریقین کے مؤقف، بیانات، شواہد اور قانونی نکات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مجموعی صورتحال

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے ایک مرتبہ پھر فیک نیوز، جعلی ویڈیوز اور مبینہ کردار کشی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خاتون کی عزت اور وقار کو سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔

ان کے مطابق وہ خود عدالت میں موجود ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرانے اور جرح کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ ان کی درخواست پر ملزمہ فلک جاوید کو بھی عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب عدالت نے 12 ستمبر کو جرح کے لیے آخری موقع مقرر کیا ہے۔ مزید التوا نہ ملنے کی صورت میں کارروائی آگے بڑھنے اور حقائق عدالتی ریکارڈ کا حصہ بننے کی توقع ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ فیک نیوز، جھوٹ اور کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنانے والوں کو اب عدالت میں جواب دینا ہوگا۔ تاہم اس مقدمے میں کسی بھی فرد کی قانونی ذمہ داری یا الزام کی حتمی حیثیت کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button