بین الاقوامی

امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کی 25 ویں برسی، ٹرمپ کی پینٹاگون میں تقریب میں شرکت

صدر ٹرمپ مسلسل دوسرے سال 11 ستمبر کی برسی پینٹاگون میں منا رہے ہیں ۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ  آخری بار 2024 میں گراؤنڈ زیرو کی یادگاری تقریب میں شریک ہوئے تھے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

11  ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کی 25 ویں برسی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کو پینٹاگون میں منعقد ہونے والی ایک یادگاری تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ مسلسل دوسرے سال 11 ستمبر کی برسی پینٹاگون میں منا رہے ہیں ۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ  آخری بار 2024 میں گراؤنڈ زیرو کی یادگاری تقریب میں شریک ہوئے تھے۔

شمع روشن کرنے اور حملوں کے متاثرین کے نام پڑھنے سمیت مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

ادھر دن کے آغاز پر بارش کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور اعلیٰ امریکی فوجی حکام نے پینٹاگون کی عمارت پر ایک بڑا امریکی پرچم لہرایا۔ 11 ستمبر 2001 کو اغوا کیے گئے مسافر بردار طیاروں میں سے ایک اسی عمارت سے ٹکرایا تھا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نیویارک میں 11 ستمبر کی یادگاری تقریب میں سابق  امریکی صدور کے ہمراہ شرکت کریں گے، جبکہ انتظامیہ کے دیگر عہدیدار شینکس وِل، پنسلوانیا میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شریک ہوں گے۔

نیویارک 2026 | 11 ستمبر کے حملوں کی 25 ویں برسی | یادگار مقامات پر دو خواتین پھول چڑھا رہی ہیں

گزشتہ سال نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی 11 ستمبر کی برسی پر نیو یارک جانے کا منصوبہ بنایا تھا،  تاہم انہوں نے اپنا پروگرام تبدیل کرتے ہوئے سالٹ لیک سٹی کا رخ کیا تھا تاکہ قتل کیے گئے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔

گزشتہ سال پینٹاگون میں ہونے والی یادگاری تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے دن کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے ہائی جیک کیے گئے طیاروں میں سوار مسافروں اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان ہونے والی بعض آخری گفتگوؤں کا بھی ذکر کیا تھا۔

11 ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات نے ملک اور دنیا کی سیاست و سلامتی کی  صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔

نئی رائے شماری کے مطابق امریکہ  کی بالغ افراد پر مشتمل آبادی کا نصف حصہ  11 ستمبر 2001 کے حملوں کو اپنی زندگی کا اہم تاریخی واقعہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب بہت سے افراد اس دن کو ذاتی غور و فکر اور یاد کے طور پر مناتے ہیں، جبکہ متعدد اسکولوں میں نئی نسل کو ان حملوں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان کے اثرات ذاتی غم سے لے کر طویل جنگوں تک دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button