
ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے: بروقت ابتدائی طبی امداد انسانی جان بچانے میں اہم ہے، مریم نواز
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد ہنگامی طبی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر بنانا اور شہریوں کو مشکل وقت میں فوری اور بہتر طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
انصار ذاہدسیال-پاکستان
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں ریسکیو 1122 کے ذریعے ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے ریسکیورز اور ہسپتالوں کے ایمرجنسی اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثات اور ہنگامی حالات میں بروقت ابتدائی طبی امداد انسانی جان بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی حادثے یا طبی ہنگامی صورتحال میں مریض کو ابتدائی لمحات میں مناسب طبی امداد فراہم کرنا اس کی زندگی بچانے کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فرسٹ ایڈ صرف طبی شعبے سے وابستہ افراد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ معاشرے کے عام شہریوں کو بھی بنیادی ابتدائی طبی امداد کے طریقوں سے آگاہ ہونا چاہیے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ محفوظ اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے عوام میں فرسٹ ایڈ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بالخصوص نوجوانوں، طلبہ و طالبات اور ایسے افراد کو بنیادی فرسٹ ایڈ کی تربیت حاصل کرنی چاہیے جو حادثات یا ہنگامی حالات کے وقت متاثرہ افراد کی مدد کر سکتے ہیں۔
بروقت فرسٹ ایڈ جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں کہا کہ حادثات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں ابتدائی طبی امداد ناگزیر ہو جاتی ہے۔ کسی زخمی یا بیمار شخص کو ہسپتال پہنچانے سے قبل اگر درست طریقے سے ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی جائے تو بعض صورتوں میں اس کی حالت مزید بگڑنے سے روکی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرسٹ ایڈ کے بنیادی اصولوں سے آگاہی عام شہری کو ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے قابل بناتی ہے۔ اسی لیے عوامی سطح پر فرسٹ ایڈ کی تربیت اور آگاہی کو فروغ دینا ایک محفوظ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ شہریوں میں ابتدائی طبی امداد سے متعلق بنیادی شعور پیدا کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور تربیتی سرگرمیوں کی ضرورت ہے تاکہ حادثات اور ہنگامی حالات میں ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک متاثرہ افراد کو ضروری ابتدائی مدد فراہم کی جا سکے۔
پنجاب حکومت ہنگامی طبی خدمات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق صوبائی حکومت ہنگامی حالات میں قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کا مقصد ہنگامی طبی خدمات کے نظام کو مزید مؤثر بنانا اور شہریوں کو مشکل وقت میں فوری اور بہتر طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
ان کے مطابق ریسکیو سروسز، ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہنگامی طبی نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں اور ہسپتالوں کے ایمرجنسی اسٹاف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ افراد حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے فوری طور پر پہنچتے ہیں۔
گولڈن آور میں علاج کی فراہمی کے لیے ائیر ایمبولینس کا آغاز
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب گولڈن آور کے دوران مریض کے یقینی علاج کے لیے ائیر ایمبولینس شروع کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید حادثات اور ایسے طبی معاملات جن میں مریض کو فوری طور پر کسی بڑے یا مخصوص طبی مرکز تک پہنچانا ضروری ہو، ان میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں ائیر ایمبولینس کی سہولت مریض کو کم سے کم وقت میں مناسب طبی مرکز تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ہنگامی طبی خدمات میں بروقت رسپانس اور مریض کو مناسب طبی سہولت تک فوری رسائی فراہم کرنا حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سیلاب متاثرین کے لیے موبائل اور فیلڈ طبی سہولیات
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں صوبے میں حالیہ سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران فراہم کی جانے والی طبی و ریسکیو سہولیات کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں "کلینک آن ویلز”، "فیلڈ ہسپتال” اور "کلینک آن بوٹس” کے ذریعے متاثرہ افراد کو طبی سہولیات، ابتدائی طبی امداد اور ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران معمول کی طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے موبائل اور فیلڈ بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔
کلینک آن ویلز کے ذریعے طبی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ فیلڈ ہسپتال اور دیگر عارضی طبی مراکز ایسے علاقوں میں بنیادی اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بنتے ہیں جہاں مستقل طبی مراکز تک رسائی مشکل ہو۔
اسی طرح کلینک آن بوٹس جیسی سہولیات سیلاب زدہ علاقوں میں ان افراد تک طبی امداد پہنچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں جہاں زمینی راستے متاثر یا بند ہوں۔
ریسکیو 1122 کی خدمات کو خراج تحسین
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیورز دن رات انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں اور حادثات کا شکار ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔
ریسکیو اہلکار ٹریفک حادثات، طبی ہنگامی حالات، آگ لگنے کے واقعات، قدرتی آفات اور دیگر مختلف ہنگامی صورتحال میں متاثرہ افراد تک پہنچنے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں کے ایمرجنسی اسٹاف کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ریسکیو ٹیموں کے بعد ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں موجود ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر عملہ بھی مریضوں کی زندگی بچانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہنگامی طبی خدمات کا پورا نظام ایسے افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیت، بروقت فیصلوں اور مسلسل خدمات پر انحصار کرتا ہے۔
نوجوانوں اور طلبہ کو فرسٹ ایڈ کی تربیت دینے پر زور
مریم نواز شریف نے خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ بنیادی فرسٹ ایڈ کی تربیت حاصل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے متحرک طبقہ ہوتے ہیں اور انہیں ابتدائی طبی امداد کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا جائے تو وہ حادثات اور ہنگامی حالات میں فوری مدد فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں فرسٹ ایڈ کی بنیادی تربیت، آگاہی پروگرامز اور عملی مشقوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق فرسٹ ایڈ کی تربیت کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو طبی ماہر بنانا نہیں بلکہ انہیں یہ سکھانا ہے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں پیشہ ورانہ مدد پہنچنے تک متاثرہ شخص کی حالت مزید خراب ہونے سے کیسے روکی جا سکتی ہے۔
محفوظ معاشرے کے لیے عوامی آگاہی ضروری
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ محفوظ اور صحت مند معاشرے کے لیے عوام میں فرسٹ ایڈ کا شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہنگامی طبی خدمات کو صرف حکومت یا ریسکیو اداروں کی ذمہ داری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ شہریوں کی بنیادی آگاہی اور ذمہ دارانہ رویہ بھی حادثات کے دوران نقصانات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خاص طور پر سڑکوں پر سفر کرنے والے افراد، تعلیمی اداروں کے طلبہ، صنعتی اور تجارتی اداروں کے کارکنوں اور عوامی مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے بنیادی فرسٹ ایڈ کی تربیت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ہنگامی طبی نظام میں فوری ردعمل کی اہمیت
حادثے کے بعد ابتدائی چند لمحات اکثر انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ شدید زخمی افراد کو فوری مدد نہ ملنے کی صورت میں ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اسی لیے ہنگامی طبی نظام میں تین بنیادی مراحل اہم سمجھے جاتے ہیں: حادثے یا ہنگامی صورتحال کی فوری اطلاع، ریسکیو ٹیم کا بروقت پہنچنا اور متاثرہ فرد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مناسب طبی مرکز تک منتقل کرنا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ہنگامی طبی سہولیات میں توسیع اور ریسکیو نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات اسی سلسلے کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
مریم نواز شریف کے مطابق حکومت پنجاب ہنگامی طبی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسی بھی حادثے یا طبی ایمرجنسی کی صورت میں شہریوں کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔
فرسٹ ایڈ کی تربیت کو معاشرتی ضرورت بنانے کی ضرورت
ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے کے موقع پر سامنے آنے والے پیغام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ابتدائی طبی امداد کو صرف طبی اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہریوں تک پہنچایا جائے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ٹریفک حادثات، قدرتی آفات، آگ لگنے کے واقعات اور دیگر ہنگامی حالات پیش آتے رہتے ہیں، وہاں شہریوں کی بنیادی تربیت ہنگامی صورتحال میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
اس سلسلے میں تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، نجی اداروں اور کمیونٹی سطح پر تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو بنیادی فرسٹ ایڈ، ہنگامی صورت حال میں درست ردعمل اور ریسکیو اداروں سے رابطے کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا بھی اس شعور کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انسانیت کی خدمت میں ریسکیو اور ایمرجنسی اسٹاف کا کردار
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں ریسکیو 1122 کے ریسکیورز اور ہسپتالوں کے ایمرجنسی اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔
ریسکیو اہلکار اکثر ایسے حالات میں کام کرتے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر گزرتا لمحہ اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں طبی عملہ شدید زخمی اور بیمار افراد کے علاج کے لیے فوری اقدامات کرتا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ یہ اہلکار دن رات انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں اور حادثات کے شکار افراد کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔
حکومت کی ترجیح: قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب حکومت کی پالیسی کا بنیادی مقصد ہنگامی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانا ہے۔
ائیر ایمبولینس، ریسکیو سروسز، فیلڈ ہسپتال، کلینک آن ویلز اور کلینک آن بوٹس جیسے اقدامات کو اسی وسیع تر ہنگامی طبی نظام کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ ماہرین کے مطابق ہنگامی طبی نظام کی کامیابی کے لیے تربیت یافتہ عملہ، مناسب آلات، تیز رفتار مواصلاتی نظام، ہسپتالوں میں ایمرجنسی گنجائش اور عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔
فرسٹ ایڈ: ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری
ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا پیغام اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ابتدائی طبی امداد کسی ایک ادارے یا شعبے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
ریسکیو 1122 اور ہسپتالوں کا عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، تاہم کسی حادثے کے ابتدائی لمحات میں موقع پر موجود شہری کی جانب سے درست اور بروقت مدد بھی اہم ہو سکتی ہے۔
اسی لیے بنیادی فرسٹ ایڈ کی تربیت کو معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقات تک پہنچانے کی ضرورت ہے، خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ و طالبات کو اس حوالے سے تربیت فراہم کی جا سکتی ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت ہنگامی طبی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق محفوظ اور صحت مند معاشرے کے لیے عوام میں فرسٹ ایڈ کا شعور اجاگر کرنا اور ہر شہری کو بنیادی ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔



