پاکستاناہم خبریں

نئے صوبے یا بااختیار مقامی حکومتیں؟ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی بحث پھر تیز

وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور ملک میں زیادہ decentralization یعنی اختیارات کی غیر مرکزیت کی حمایت کر چکے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان میں بہتر حکمرانی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک جانب یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی والے ملک میں موجودہ چار صوبوں پر مشتمل انتظامی نظام بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ماہرین اور بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانا مسئلے کا بنیادی حل نہیں بلکہ حقیقی اور بااختیار مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر راستہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی سطح پر بعض اہم حکومتی شخصیات نے پاکستان کے انتظامی نظام پر ازسرنو غور کرنے اور اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے نئے صوبے بنانے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا اور حکمران اتحاد کے اندر بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔

12 سے 15 نئے صوبوں یا 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کی تجویز

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حال ہی میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے ایک وسیع قومی سیاسی مباحثے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں 12 سے 15 نئے صوبے قائم کرنے یا متبادل طور پر تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں تشکیل دینے کے آپشن پر غور کیا جانا چاہیے۔

احسن اقبال کے مطابق موجودہ انتظامی نظام صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں وہ نتائج فراہم نہیں کر سکا جن کی عوام کو ضرورت ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمرانی کے موجودہ ماڈل کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یہ تجویز محض صوبوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ اس میں یہ بنیادی سوال بھی شامل ہے کہ کیا ملک میں اختیارات اور فیصلہ سازی کو اضلاع اور مقامی سطح تک منتقل کرکے عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

محسن نقوی اور خواجہ آصف بھی اختیارات کی منتقلی کے حامی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل جولائی میں انتظامی نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کی بحث شروع کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں تو اس عمل میں عوامی حمایت کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور ملک میں زیادہ decentralization یعنی اختیارات کی غیر مرکزیت کی حمایت کر چکے ہیں۔

ان بیانات سے یہ تاثر ضرور مضبوط ہوا ہے کہ حکومتی سطح پر انتظامی اصلاحات کے معاملے کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی حتمی حکومتی خاکہ، ٹائم لائن یا قانونی طریقۂ کار سامنے نہیں آیا۔

اصل سوال: نئے صوبے یا مضبوط بلدیاتی نظام؟

سابق وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات مفتاح اسماعیل کے مطابق نئے یا چھوٹے صوبے بااختیار مقامی حکومتوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبوں کی تعداد بڑھا بھی دی جائے تو عوام کو صحت، تعلیم، صفائی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی خدمات مؤثر انداز میں فراہم کرنے کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام بہرحال ضروری ہوگا۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق مسئلے کی جڑ صرف صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا مرکز سے صوبے، صوبے سے ڈویژن اور پھر ضلعی سطح تک مؤثر انتقال نہ ہونا ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات حاصل نہ ہوں تو نئے صوبے بھی ایک نئے مرکزی انتظامی ڈھانچے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

عابد قیوم سلہری: صوبے چاہے ایک ہوں یا 25، اختیار مقامی سطح پر ہونا چاہیے

اسلام آباد میں قائم سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری بھی بااختیار مقامی حکومتوں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر مؤثر مقامی حکومتیں موجود نہ ہوں تو ملک میں ایک صوبہ ہو یا 25، فیصلہ سازی اور اختیارات بڑی حد تک صوبائی سطح پر ہی مرکوز رہیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کا جائزہ صرف انتظامی سہولت کے زاویے سے نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ اس کے معاشی اور مالی اثرات بھی سامنے رکھنا ضروری ہیں۔

نئے صوبوں کی صورت میں نئی اسمبلیاں، سیکریٹریٹس، محکمے اور بیوروکریسی تشکیل دینا پڑ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوگا، جبکہ یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ نئے انتظامی یونٹس اپنی آمدنی میں کس حد تک اضافہ کر سکیں گے اور مقامی سطح پر ٹیکس وصولی کا نظام کتنا بہتر بنایا جا سکے گا۔

سلہری کے مطابق اصل امتحان یہ ہوگا کہ انتظامی تبدیلی کے نتیجے میں عام شہری کو انصاف، تعلیم، صحت، پانی، صفائی اور دیگر بنیادی خدمات پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں ملتی ہیں یا نہیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے ماہر: مقامی حکومتیں زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتی ہیں

قائداعظم یونیورسٹی سے وابستہ سیاسیات کے ماہر محمد شعیب کے مطابق پاکستان کا ماضی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی خدمات اور حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد محض نئی سرحدیں کھینچنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اختیارات کس سطح پر استعمال کیے جا رہے ہیں اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی شمولیت کتنی حاصل ہے۔

اگر کسی نئے صوبے کے قیام کے بعد بھی اختیارات صوبائی دارالحکومت تک محدود رہیں تو عام شہری کے لیے اس تبدیلی کا عملی فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔

نئے صوبے صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بھی ہیں

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کا ایک اہم پہلو اس کی سیاسی نوعیت ہے۔ صوبوں کی تعداد بڑھنے کا مطلب نئی حکومتیں، نئی اسمبلیاں، نئے انتظامی مراکز اور سیاسی طاقت کے نئے مراکز کا قیام بھی ہوگا۔

اس کے ساتھ وفاق میں سیاسی نمائندگی، سینیٹ کی تشکیل اور قومی وسائل کی تقسیم پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل محض انتظامی فیصلے کے بجائے ایک وسیع سیاسی عمل بن

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button