پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پنجاب میں پری سموگ انفورسمنٹ تیز، 1122 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ، آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مقصد پنجاب کے شہریوں کو صاف اور بہتر ہوا فراہم کرنا ہے، اسی لیے آلودگی کے خلاف پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

پنجاب حکومت نے سموگ کے ممکنہ اثرات سے قبل فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صوبے بھر میں جامع پری سموگ انفورسمنٹ کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف محکموں اور متعلقہ اداروں کو متحرک کرتے ہوئے سڑکوں سے اٹھنے والی گردوغبار، صنعتی آلودگی، کچرے اور دیگر آلودگی پھیلانے والے عوامل کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں پری سموگ اقدامات بھرپور رفتار سے جاری ہیں اور حکومت سموگ کے نمودار ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے فضائی آلودگی کے اسباب کے خلاف پہلے ہی کارروائی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مقصد پنجاب کے شہریوں کو صاف اور بہتر ہوا فراہم کرنا ہے، اسی لیے آلودگی کے خلاف پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایک ہی دن میں 1122 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ

مریم اورنگزیب کے مطابق فضائی آلودگی اور گردوغبار کے تدارک کے لیے ایک ہی دن میں پنجاب بھر میں 1122 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔

حکومت کے مطابق سڑکوں سے اٹھنے والی گرد، خصوصاً خشک موسم میں ٹریفک کی آمدورفت کے باعث پیدا ہونے والی دھول، شہری فضائی آلودگی میں ایک اہم عنصر بن سکتی ہے۔ اس لیے پری سموگ حکمت عملی میں سڑکوں کی صفائی اور پانی کے چھڑکاؤ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ آلودگی کے ان ذرائع کو سموگ سیزن سے پہلے ہی کنٹرول کیا جائے جو بعد میں فضائی معیار کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

219 سڑک شولڈرز کی مرمت و تعمیر

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ فضائی آلودگی اور فیوگیٹو ڈسٹ یعنی مختلف مقامات سے غیر منظم طور پر فضا میں شامل ہونے والی گردوغبار کے خاتمے کے لیے صوبے میں 219 سڑک شولڈرز کی مرمت اور تعمیر کا کام جاری ہے۔

سڑکوں کے کناروں اور شولڈرز کی مناسب حالت میں موجودگی کو گردوغبار کے پھیلاؤ میں کمی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق پری سموگ اقدامات میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پانی کا چھڑکاؤ اور صفائی جیسے اقدامات کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک اور تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول کو کم کیا جا سکے۔

آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

سینئر صوبائی وزیر کے مطابق آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف خلاف ورزیوں پر 251 نوٹسز اور 20 جرمانے جاری کیے گئے، جبکہ ٹھوس فضلہ، ٹائر، ربڑ اور پلاسٹک جلانے پر 37 ہزار 500 روپے جرمانہ کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے کچرے اور دیگر مواد کو کھلے عام جلانے کے خلاف کارروائی کو پری سموگ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے مواد کے جلنے سے دھواں اور مختلف آلودہ ذرات فضا میں شامل ہو سکتے ہیں۔

مریم اورنگزیب کے مطابق آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کی نگرانی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تجاوزات اور ٹریفک میں رکاوٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن

پری سموگ انفورسمنٹ کے تحت سڑکوں پر تجاوزات اور ٹریفک میں رکاوٹ بننے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق اس سلسلے میں 574 نوٹسز، 45 جرمانے اور 23 مقدمات درج کیے گئے۔

حکومت کے مطابق سڑکوں پر غیر قانونی سرگرمیوں، تجاوزات اور ٹریفک میں رکاوٹوں کے باعث نہ صرف شہری آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ گاڑیوں کی غیر ضروری رکی ہوئی ٹریفک بھی شہری فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی لیے پری سموگ منصوبے میں ماحولیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹریفک مینجمنٹ اور سڑکوں کے بہتر استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

فیصل آباد ڈویژن میں صنعتی یونٹس کی CCTV مانیٹرنگ

سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ فیصل آباد ڈویژن میں جامع پری سموگ پلان نافذ کر دیا گیا ہے اور صنعتی یونٹس اور انسنریٹرز کی CCTV کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والے کالے دھوئیں کی نشاندہی کی صورت میں فوری کارروائی جاری ہے۔

فیصل آباد ملک کے اہم صنعتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے حکومت نے وہاں صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے نگرانی کے نظام کو فعال کرنے پر توجہ دی ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق مقصد صنعتی سرگرمیوں کو روکنا نہیں بلکہ ماحولیاتی ضوابط کی پابندی یقینی بنانا اور آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے۔

بغیر کور ریت کی ٹرالیوں کے خلاف سخت کارروائی

حکومت نے تعمیراتی شعبے اور ریت کی نقل و حمل سے پیدا ہونے والی گردوغبار کے تدارک کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق 30 ستمبر کے بعد بغیر کور ریت کی ٹرالیاں آف روڈ اور ضبط کی جائیں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ریت اور تعمیراتی مواد کو مناسب طریقے سے ڈھانپے بغیر منتقل کرنے سے سڑکوں پر گردوغبار پھیل سکتا ہے اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ مدت کے بعد بغیر کور ریت لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

یہ اقدام تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول کو کم کرنے کے لیے پری سموگ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

کمرشل کچنز اور ایونٹ ہالز کے لیے نئی شرط

سینئر صوبائی وزیر کے مطابق 10 اکتوبر کے بعد بغیر سکشن ہُڈ کمرشل کچنز اور ایونٹ ہالز کو سیل کیا جائے گا۔

کمرشل کچنز میں کھانا پکانے کے دوران پیدا ہونے والا دھواں اور دیگر اخراج اگر مناسب وینٹی لیشن یا سکشن نظام کے بغیر خارج ہوں تو قریبی ماحول کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔

حکومت نے اس سلسلے میں متعلقہ کاروباری اداروں کو مقررہ وقت کے اندر ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق مقررہ ڈیڈ لائن کے بعد خلاف ورزی کرنے والے کمرشل کچنز اور ایونٹ ہالز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف زیرو ٹالرنس

پنجاب حکومت نے فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فصلوں کی باقیات، خصوصاً دھان کے ماندہ مواد کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں کو فضائی آلودگی اور سموگ کے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے متبادل طریقے اختیار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق ساہیوال کے علاقے ہڑپہ میں دھان کی باقیات جلانے کے بجائے بیلر مشین کے ذریعے بیلز بنانے کا عملی ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس ماڈل کے ذریعے فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے بجائے انہیں مشینری کے ذریعے جمع کرکے قابلِ استعمال شکل میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

کسانوں کے لیے متبادل حل کی ضرورت

فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے کے حوالے سے ماہرین عام طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف پابندی اور جرمانے کافی نہیں بلکہ کسانوں کو عملی اور معاشی متبادل بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔

اس تناظر میں بیلر مشین جیسے ماڈلز کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اگر فصلوں کی باقیات کو مناسب طریقے سے جمع کرنے اور استعمال یا تلف کرنے کی سہولت دستیاب ہو تو کسانوں کے لیے انہیں جلانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

ساہیوال ہڑپہ میں متعارف کرائے گئے ماڈل کو اسی نوعیت کی عملی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سموگ کا انتظار نہیں کیا جا رہا: مریم اورنگزیب

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا مشن پنجاب میں صاف ہوا کی فراہمی ہے۔

ان کے مطابق حکومت سموگ کے نمودار ہونے کا انتظار نہیں کر رہی بلکہ آلودگی کے خلاف کارروائی پہلے ہی شروع کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پری سموگ اقدامات کا مقصد فضائی آلودگی کے ان عوامل کی پہلے سے روک تھام کرنا ہے جو سموگ کے موسم میں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔

مریم اورنگزیب کے مطابق صوبائی حکومت کی تمام متعلقہ ٹیمیں اور ادارے متحرک ہیں اور مختلف شعبوں میں کارروائی جاری ہے۔

شہریوں سے بھی تعاون کی توقع

پری سموگ اقدامات کی کامیابی کے لیے حکومتی کارروائی کے ساتھ شہریوں کے تعاون کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

کھلے مقامات پر کچرا، پلاسٹک، ربڑ اور ٹائر جلانے سے گریز، تعمیراتی مواد کی مناسب نقل و حمل، گاڑیوں سے غیر ضروری دھوئیں کے اخراج کی روک تھام اور ماحول دوست طرز عمل اپنانا ایسے اقدامات ہیں جن میں عوام کا براہ راست کردار ہو سکتا ہے۔

اسی طرح صنعتی اور تجارتی اداروں کے لیے بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین اور حکومت کی مقرر کردہ شرائط پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

پری سموگ حکمت عملی کا مقصد کیا ہے؟

پنجاب حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پری سموگ اقدامات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سموگ کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی فضائی آلودگی کے ممکنہ ذرائع کو کنٹرول کیا جائے۔

اس حکمت عملی میں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ، سڑک شولڈرز کی تعمیر و مرمت، صنعتی یونٹس کی نگرانی، کالے دھوئیں کے خلاف کارروائی، کچرے اور دیگر مواد کو جلانے کی روک تھام، تجاوزات کے خلاف آپریشن اور فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقوں کو شامل کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق یہ اقدامات صرف سموگ کے دنوں تک محدود نہیں بلکہ صاف ہوا کے لیے ایک وسیع تر ماحولیاتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

مقررہ ڈیڈ لائنز کے بعد کارروائی مزید سخت ہوگی

حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے مقررہ ڈیڈ لائنز اس پالیسی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

30 ستمبر کے بعد بغیر کور ریت لے جانے والی ٹرالیاں آف روڈ اور ضبط کرنے کی کارروائی کی جائے گی، جبکہ 10 اکتوبر کے بعد بغیر سکشن ہُڈ کمرشل کچنز اور ایونٹ ہالز کو سیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سے قبل متعلقہ کاروباری اداروں اور ٹرانسپورٹرز کو مطلوبہ انتظامات مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ مقررہ تاریخ کے بعد کارروائی سے بچا جا سکے۔

صاف ہوا کے لیے پیشگی اقدامات پر زور

ماہرین کے مطابق سموگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف اس وقت اقدامات کرنا کافی نہیں جب فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ جائے۔ آلودگی کے بنیادی ذرائع کی مسلسل نگرانی اور ان کے تدارک کے لیے سال بھر اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

پنجاب حکومت کا پری سموگ انفورسمنٹ پروگرام اسی پیشگی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت مختلف اداروں کو سموگ سیزن سے پہلے ہی متحرک کیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب میں پری سموگ اقدامات بھرپور رفتار سے جاری ہیں اور تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

حکومت کا مؤقف: سموگ سے پہلے آلودگی پر قابو پانا ضروری

پنجاب میں پری سموگ انفورسمنٹ کے تحت سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ، سڑک شولڈرز کی تعمیر و مرمت، آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف نوٹسز اور جرمانوں، تجاوزات کے خلاف کارروائی اور صنعتی یونٹس کی نگرانی سمیت متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔

فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف زیرو ٹالرنس اور متبادل طور پر بیلر مشین کے استعمال کا ماڈل بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے صاف ہوا کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت سموگ کا انتظار نہیں کر رہی بلکہ آلودگی کے خلاف کارروائی پہلے سے شروع کر چکی ہے۔

اب ان اقدامات کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مقررہ قواعد پر پورے صوبے میں کس حد تک مستقل اور یکساں عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے اور مختلف ادارے سموگ سیزن سے قبل آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button