پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کراچی میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

گلبائی شیرشاہ میں خفیہ اطلاع پر کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگرد مارا گیا، اسلحہ اور بارود برآمد

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
احسان احمد-ادارت

کراچی: سندھ رینجرز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کراچی کے علاقے گلبائی شیرشاہ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے وابستہ ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد گلبائی شیرشاہ کے علاقے میں موجود ہے۔ اطلاع کی تصدیق اور دہشتگرد کی موجودگی کا تعین کرنے کے بعد سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی سندھ نے مشترکہ آپریشن کیا۔

ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور دہشتگرد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا دہشتگرد ہلاک ہوگیا۔ کارروائی کے بعد علاقے کو محفوظ بنایا گیا اور ہلاک دہشتگرد کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔

ہلاک دہشتگرد کی شناخت قاری ضیاء الرحمٰن کے نام سے

سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد کی شناخت قاری ضیاء الرحمٰن عرف قاری سیف اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے بتایا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ قاری ضیاء الرحمٰن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا اور اس پر پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپوں پر متعدد حملوں سمیت دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

سندھ رینجرز کے مطابق ہلاک دہشتگرد کی سرگرمیوں کا سلسلہ کئی برسوں پر محیط تھا اور اس نے مختلف ادوار میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور سرحدی علاقوں میں قائم تنصیبات کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں مبینہ طور پر حصہ لیا۔

2006 میں شدت پسند گروہ میں شمولیت کا دعویٰ

سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق قاری ضیاء الرحمٰن نے 2006 میں فتنہ الخوارج کے قاری درویش عرف باندی وان گروہ میں شمولیت اختیار کی، جہاں اسے باجوڑ میں قائم ایک تربیتی کیمپ میں دہشتگردی کی تربیت دی گئی۔

ترجمان کے مطابق تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ تنظیمی سرگرمیوں میں شامل رہا اور 2006 سے 2008 تک فتنہ الخوارج کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کے خفیہ ٹھکانوں پر پکٹ ڈیوٹی بھی انجام دیتا رہا۔

سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران ہلاک دہشتگرد نے مبینہ طور پر تنظیم کے مختلف خفیہ ٹھکانوں اور سرگرمیوں میں معاونت کی۔

2007 میں باجوڑ میں فوجی کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ

ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق 2007 میں قاری ضیاء الرحمٰن اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ باجوڑ کے علاقے رکشا میں پاکستان آرمی کے ایک کیمپ پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھا۔

ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ہلاک دہشتگرد نے اسی نوعیت کے دیگر کئی حملوں میں بھی حصہ لیا۔ ان کارروائیوں کا تعلق سکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی دہشتگرد سرگرمیوں سے بتایا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اس عرصے میں باجوڑ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسند سرگرمیاں جاری تھیں اور سکیورٹی تنصیبات کو مختلف حملوں کا سامنا رہا۔

2012 میں افغانستان فرار ہونے کا دعویٰ

سندھ رینجرز کے مطابق 2012 میں فوجی آپریشن کے دوران قاری ضیاء الرحمٰن افغانستان فرار ہوگیا تھا، جہاں اس نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

ترجمان کے مطابق افغانستان پہنچنے کے بعد ہلاک دہشتگرد نے ننگرہار کے علاقے بندھار درا میں واقع ایک کیمپ میں دہشتگردی کی مزید تربیت حاصل کی۔

سندھ رینجرز کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں مزید تربیت حاصل کرنے کے بعد قاری ضیاء الرحمٰن افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقوں میں سکیورٹی پوسٹوں کے خلاف ہونے والے متعدد حملوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہا۔

حال ہی میں کراچی منتقل ہوا تھا

سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق ہلاک دہشتگرد حال ہی میں افغانستان سے کراچی منتقل ہوا تھا اور شہر میں رہائش اختیار کرنے کے بعد مبینہ طور پر دہشتگردی کا نیٹ ورک منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ قاری ضیاء الرحمٰن کراچی میں حساس مقامات کو ممکنہ دہشتگرد کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے لیے اپنا نیٹ ورک منظم کر رہا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر اس کی موجودگی کا سراغ لگایا، جس کے بعد گلبائی شیرشاہ میں مشترکہ کارروائی کی گئی۔

کراچی میں دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں

قاری ضیاء الرحمٰن کی ہلاکت کو سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی جانب سے کراچی میں دہشتگردی کے ممکنہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

کراچی ایک بڑا شہری، صنعتی اور معاشی مرکز ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے حساس نوعیت کا شہر ہے۔ ایسے میں سکیورٹی ادارے خفیہ معلومات کی بنیاد پر مشتبہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

حالیہ کارروائی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق بنیادی مقصد ایک ایسے مطلوب شخص تک پہنچنا تھا جس پر ماضی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور جو مبینہ طور پر کراچی میں ایک نیا نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسلحہ اور بارود برآمد

سندھ رینجرز کے مطابق آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ تاہم ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات میں برآمد ہونے والے اسلحے اور بارودی مواد کی مقدار اور نوعیت کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائی کے بعد مزید تفتیش اور ممکنہ طور پر ہلاک دہشتگرد کے رابطوں، سہولت کاروں اور کراچی میں قائم کیے جانے والے مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایسے آپریشنز کے بعد تفتیش کا ایک اہم پہلو ہلاک دہشتگرد کے ممکنہ ساتھیوں، رابطوں اور شہری علاقوں میں موجود سہولت کاری کے نظام کا سراغ لگانا ہوتا ہے۔

اگر قاری ضیاء الرحمٰن واقعی کراچی میں کسی نیٹ ورک کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اس کے رابطوں اور ممکنہ معاونین کی شناخت بھی اہم ہوگی۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے تک کسی بھی ممکنہ نیٹ ورک یا افراد کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

رینجرز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن

گلبائی شیرشاہ میں ہونے والی کارروائی سندھ رینجرز اور سی ٹی ڈی سندھ کی مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی تھی۔ اس نوعیت کی کارروائیوں میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر مطلوب افراد کی موجودگی کی نشاندہی کے بعد آپریشن کیا جاتا ہے۔

سندھ رینجرز کے ترجمان نے کارروائی میں ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد کی ہلاکت، اس کی شناخت اور اسلحہ و بارود کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے۔ ترجمان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ہلاک دہشتگرد کی مبینہ دہشتگرد سرگرمیوں کا تعلق ماضی میں باجوڑ اور افغانستان سمیت مختلف علاقوں سے رہا، جبکہ حالیہ عرصے میں اس کی موجودگی کراچی میں بتائی گئی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button