
مارسیل فُورستناؤ
گزشتہ سال جرمنی میں 10 ٹن کوکین ضبط کی گئی، جس میں سے دو تہائی مقدار جرمن بندرگاہوں سے پکڑی گئی۔ اسی دوران منشیات کے استعمال کے باعث 2,150 افراد ہلاک ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 زیادہ ہے۔
وفاقی فوجداری پولیس دفتر (بی کے اے) کے صدر ہولگر مونش نے بتایا کہ 2025 میں منی لانڈرنگ کے 195 مقدمات کی تحقیقات کی گئیں، جن میں تقریباً 1.4 ارب یورو (تقریباً 1.6 ارب ڈالر) کی رقم شامل تھی۔
انہوں نے کہا، ”مجرم رشوت دینے اور اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے اپنی بڑی مالی طاقت بروئے کار لاتے ہیں۔ وہ رقم کو قانونی بناتے ہیں اور اسے قانونی اقتصادی نظام میں منتقل کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات کوکین ہے، جو ریاست، معیشت اور مجموعی طور پر معاشرے کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

’ہر گرام کوکین پر خون کے دھبے ہیں‘
منشیات سے متعلق اموات میں تقریباً 83 فیصد مرد تھے، جن کی اوسط عمر 41 سال تھی۔
جرمن حکومت کے منشیات و نشے سے متعلق کمشنر ہینڈرک شٹریک نے کہا، ”یہ سب ایسے بازار کے صارف ہیں، جہاں مہلک اشیا کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور جو تشدد، ماحولیاتی تباہی، بھتہ خوری اور استحصال کے ذریعے چلتا ہے۔‘‘
شٹریک نے بتایا کہ بعض ممالک میں کوکین کی پیداوار کے لیے بارانی جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے زہریلے مادے، مثلاً مٹی کا تیل اور بیٹری ایسڈ، بالآخر مٹی اور پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کسانوں اور ان کے خاندانوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے جرمنی میں کوکین کی بڑھتی ہوئی مانگ پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
منشیات اور نشے سے متعلق کمشنر نے کہا، ”تفریح کے لیے استعمال ہونے والی ہر گرام کوکین پر خون کے دھبے ہیں۔‘‘

منشیات کی تجارت میں ڈیجیٹل تبدیلی
شٹریک نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہے اور منشیات کی مارکیٹ ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا، ”منشیات فروش اب گلیوں اور سڑکوں کے کونوں کے بجائے موبائل فون اور آن لائن پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں۔ مثال کے طور پر لوگ کیو آر کوڈ کے ذریعے نام نہاد ‘کوکین ٹیکسی‘ (ایسی گاڑیاں جو کسی بھی مقام پر منشیات پہنچاتی ہیں) منگوا سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”خاص طور پر تشویش ناک بات یہ ہے کہ جرائم پیشہ گروہ سوشل میڈیا یا گیمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے کم عمر افراد کو بھرتی کر رہے ہیں۔ منظم جرائم پیشہ افراد نوجوانوں کو انہی مقامات پر بھرتی کرتے ہیں جہاں وہ اپنا فارغ وقت گزارتے ہیں۔‘‘
یہ رجحان جرمنی اور دیگر ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے اور منظم جرائم کی روایتی تصویر، یعنی رازداری، علیحدگی اور بند ڈھانچے، اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔



