
وزیراعظم شہباز شریف کا قیمتی پتھروں کے شعبے میں سست روی پر اظہارِ برہمی، برآمدات بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل آئندہ ہفتے پیش کرنے کی ہدایت
انہوں نے واضح کیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کا شعبہ ملکی معیشت، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی ترقی سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
سید عاطف ندیم -ادارت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں اور جواہرات (Gemstones) کے شعبے کی ترقی کے لیے جاری پائلٹ پراجیکٹس کی تیاری میں سست روی اور متعلقہ اقدامات میں تعطل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام زیر التوا معاملات فوری طور پر حل کیے جائیں اور شعبے کی ترقی کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت اور ذمہ داریوں پر مشتمل جامع لائحہ عمل تیار کرکے آئندہ ہفتے پیش کیا جائے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی سست روی یا غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے قیمتی پتھروں کی تلاش، کان کنی، تراش خراش، ویلیو ایڈیشن، برآمدی تیاریوں اور شعبے سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو قدرتی وسائل کی فراوانی حاصل ہے، تاہم ان وسائل سے حقیقی معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر منصوبہ بندی، معیاری کان کنی اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی دریافت سے لے کر ان کی پراسیسنگ، زیورات کی تیاری اور عالمی منڈیوں میں فروخت تک ایک مکمل اور مربوط ایکو سسٹم تشکیل دیا جائے، تاکہ خام معدنی وسائل کے بجائے زیادہ قدر رکھنے والی تیار مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
قیمتی پتھروں کے منصوبوں میں تاخیر ناقابل قبول ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے پائلٹ پراجیکٹس کی تیاری میں سست روی اور قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور تمام منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کا شعبہ ملکی معیشت، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی ترقی سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زیر التوا معاملات کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں متعین کی جائیں، تاکہ پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف منصوبوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان پر بروقت عمل درآمد، وسائل کا مؤثر استعمال اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنا ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔
کان کنی سے عالمی منڈیوں تک مکمل ویلیو ایڈیشن ایکو سسٹم تیار کرنے کی ہدایت
وزیراعظم نے قیمتی پتھروں کی کان کنی اور ان کی تراش خراش سے لے کر تیار مصنوعات کی تیاری اور برآمدات تک ایک مکمل ایکو سسٹم قائم کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے اور ان وسائل کو جدید خطوط پر استعمال کرکے قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ قیمتی پتھروں کے شعبے میں ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خام پتھروں کی نکاسی کے بعد انہیں مقامی سطح پر پراسیس کیا جائے، ان کی کٹنگ اور پالشنگ کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور انہیں اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔
ویلیو ایڈیشن سے مراد کسی خام شے کو مختلف مراحل سے گزار کر اس کی تجارتی قدر میں اضافہ کرنا ہے۔ قیمتی پتھروں کے معاملے میں اس عمل میں پتھروں کی درجہ بندی، تراش خراش، پالشنگ، معیار کی جانچ، ڈیزائننگ اور زیورات کی تیاری شامل ہو سکتی ہے۔
اگر پاکستان میں یہ تمام مراحل جدید سہولتوں اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے انجام دیے جائیں تو مقامی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس شعبے میں جدید مشینری، تکنیکی تربیت، معیار کی جانچ اور کاروباری سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ پاکستان عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کو مؤثر انداز میں متعارف کرا سکے۔
غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ سے سالانہ اربوں ڈالر کے نقصان پر تشویش
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی غیر معیاری طریقوں سے کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث ملک کو ہونے والے بھاری مالی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان اپنے قدرتی وسائل کی مکمل معاشی قدر حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق قیمتی پتھروں کی غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ کان کنی کے طریقہ کار کو جدید بنایا جائے، قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے اور معدنی وسائل کی نکاسی و فروخت کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
قیمتی پتھروں کی غیر مؤثر کان کنی سے نہ صرف وسائل کے ضیاع کا خدشہ بڑھتا ہے بلکہ خام پتھروں کو ان کی حقیقی قدر سے کم قیمت پر فروخت کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح غیر قانونی تجارت کی روک تھام نہ ہونے سے قومی معیشت ممکنہ برآمدی آمدن اور دیگر معاشی فوائد سے محروم رہ سکتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے جدید کان کنی، قانونی سپلائی چین، مؤثر نگرانی، معیاری جانچ اور برآمدی طریقہ کار کو بہتر بنانا اہم اقدامات ہوں گے۔ ان اقدامات سے معدنی وسائل کی قدر میں اضافہ اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات بڑھانے پر زور
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان میں موجود قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر کو ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیمتی پتھروں کے ممکنہ ذخائر اور معدنی وسائل کی موجودگی اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں معدنی وسائل کی تلاش اور ان کی تجارتی بنیادوں پر ترقی کے امکانات موجود ہیں۔
تاہم قدرتی ذخائر کی موجودگی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے سائنسی تحقیق، جیولوجیکل سروے، جدید کان کنی، محفوظ نکاسی اور معیاری پراسیسنگ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں کی ضروریات، مصنوعات کے معیار اور بین الاقوامی تجارتی تقاضوں کے مطابق سہولتیں فراہم کرنا بھی اہم ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے مقامی صنعت کو فروغ ملے، برآمدی مصنوعات کی قدر بڑھے اور پاکستان کو عالمی منڈیوں میں بہتر مقام حاصل کرنے میں مدد ملے۔
قیمتی پتھروں کے لیے برانڈ پاکستان متعارف کرانے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے بھی برانڈ پاکستان کے تصور پر کام کرنے کی ہدایت کی، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی الگ شناخت قائم کی جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ قیمتی پتھروں کی عالمی مارکیٹنگ کے لیے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ اس حکمت عملی میں مصنوعات کے معیار، مستند سرٹیفکیشن، معیاری پیکجنگ، جدید ڈیزائن، بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت اور بیرون ملک خریداروں تک رسائی جیسے پہلوؤں کو شامل کیا جانا چاہیے۔
عالمی منڈی میں مضبوط شناخت قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مصنوعات کا معیار مستقل اور قابلِ اعتماد ہو۔ خریداروں کو پتھروں کی اصل، خصوصیات، معیار اور متعلقہ تصدیقی دستاویزات کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا بھی تجارتی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے۔
برانڈ پاکستان کے تحت پاکستانی قیمتی پتھروں، تیار زیورات اور متعلقہ مصنوعات کی تشہیر سے ملکی کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی کاریگروں، ڈیزائنرز، صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے کاروباری مواقع بڑھنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے فوری لائحہ عمل مرتب کرنے کا حکم
اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی تلاش، تراش خراش اور ویلیو ایڈیشن کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے علاقے حسین آباد، اسکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق اس منصوبے پر تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامی کارروائی مکمل کی جائے اور تعمیراتی عمل میں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ان مراکز کو جدید تربیت، تکنیکی معاونت، مشینری اور معیار کی جانچ کی سہولتوں سے آراستہ کیا جائے، تاکہ قیمتی پتھروں کے شعبے سے وابستہ افراد کو عملی تربیت فراہم کی جا سکے۔
سینٹرز آف ایکسیلینس مقامی کان کنوں، ہنرمندوں، کاریگروں اور کاروباری افراد کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان مراکز میں جدید طریقوں کے ذریعے پتھروں کی کٹنگ، پالشنگ، درجہ بندی اور زیورات کی تیاری کی تربیت فراہم کرنے سے مقامی صنعت کو تقویت مل سکتی ہے۔
آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں بھی سینٹرز آف ایکسیلینس کے منصوبے
اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد میں مستقل مرکز کی تعمیر مکمل ہونے تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، تاکہ تربیت اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کا آغاز مستقل عمارت کی تکمیل سے پہلے ممکن بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کے لیے درکار تمام انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور زمین، تعمیرات یا دیگر انتظامی معاملات سے متعلق رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔
ان مراکز کے قیام سے قیمتی پتھروں کے شعبے میں مہارتوں کی منتقلی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں تربیت اور تکنیکی معاونت کی سہولتیں فراہم کرکے اس صنعت سے وابستہ افراد کی استعداد کار بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی
اجلاس میں قیمتی پتھروں کے ذخائر کی تلاش اور جیولوجیکل میپنگ سے متعلق اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ قیمتی پتھروں کے حوالے سے نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولوجیکل میپنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اس عمل کے دوران گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید تحقیق اور کام کیا جائے گا۔
جیولوجیکل میپنگ معدنی وسائل کی تلاش میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے زمین کی ساخت اور ممکنہ معدنی ذخائر کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر مزید سروے، تحقیق اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے موزوں علاقوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
ان آٹھ بلاکس میں مزید تحقیق سے قیمتی پتھروں کے ممکنہ ذخائر کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم تجارتی بنیادوں پر کان کنی کے امکانات کا حتمی تعین مزید سائنسی تحقیق، وسائل کے تخمینے اور متعلقہ منظوریوں کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اس شعبے میں تحقیق اور دریافت کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ محفوظ کان کنی، ماحولیات کے تحفظ اور مقامی آبادی کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
شعبے کی ترقی کے لیے رواں سال ایک ارب روپے مختص
اجلاس میں بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی کے لیے رواں سال پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ رقم شعبے کی ترقی سے متعلق منصوبوں کے لیے اہم مالی معاونت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم ان وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہوگا کہ منصوبوں کی ترجیحات واضح ہوں، فنڈز بروقت جاری اور استعمال کیے جائیں اور پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
قیمتی پتھروں کے شعبے میں جدید مشینری، تربیتی مراکز، تحقیق، پراسیسنگ اور برآمدی سہولتوں پر سرمایہ کاری سے مقامی صنعت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا کہ مختص مالی وسائل کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر سے بچنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مؤثر رابطہ کاری کے ساتھ کام کریں۔
سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم
اجلاس کو برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
ان ڈیسکوں کا مقصد برآمد کنندگان کو برآمدی سرگرمیوں سے متعلق سہولتیں فراہم کرنا اور کاروباری معاملات میں درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔
قیمتی پتھروں اور جواہرات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مالیاتی خدمات، بینکاری سہولتوں، دستاویزی تقاضوں اور ادائیگیوں کے نظام تک آسان رسائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں مؤثر سہولتیں فراہم کرنے سے کاروباری افراد کو عالمی منڈیوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس شعبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی برآمدی عمل سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اپنی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کرا سکیں۔
پائلٹ پراجیکٹس اور ماڈل مائنز کی تکمیل کے لیے رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے پائلٹ پراجیکٹس اور ماڈل مائنز کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ جدید اور معیاری کان کنی کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ماڈل مائنز کو مؤثر انداز میں تیار کیا جائے، تاکہ ان کے ذریعے بہتر طریقہ کار متعارف کرانے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکے۔
ماڈل مائنز کے ذریعے کان کنی کے دوران وسائل کے ضیاع کو کم کرنے، کارکنوں کی حفاظت بہتر بنانے اور نکالے گئے پتھروں کی تجارتی قدر میں اضافے کے لیے جدید طریقوں کو آزمایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ پائلٹ پراجیکٹس کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے واضح اہداف مرتب کیے جائیں اور ان کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبوں میں انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر حل کیا جائے، تاکہ قیمتی پتھروں کے شعبے میں جدید طریقہ کار متعارف کرانے کی کوششوں کو عملی شکل دی جا سکے۔
آئندہ ہفتے جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے گا
وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی مجموعی ترقی کے حوالے سے تمام اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے آئندہ ہفتے پیش کیا جائے۔
اس لائحہ عمل میں منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح مدت، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں، درکار وسائل، پائلٹ پراجیکٹس کی پیش رفت اور برآمدات میں اضافے کے لیے مجوزہ اقدامات شامل کیے جانے چاہییں۔
حکومت کے لیے بنیادی چیلنج قدرتی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ان سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید کان کنی، مقامی سطح پر پراسیسنگ، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، قانونی تجارت، معیار کی بہتری اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔
اگر منصوبوں پر بروقت عمل درآمد، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور برآمدی سہولتوں کی بہتری کو یقینی بنایا جائے تو قیمتی پتھروں کا شعبہ پاکستان کی معیشت میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے برآمدات میں اضافے کے امکانات پیدا ہونے کے ساتھ معدنی وسائل سے مالامال علاقوں میں روزگار، کاروبار اور مقامی صنعتوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی اجلاس میں شرکت
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی، معدنی ذخائر کی تلاش، سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام، ماڈل مائنز کی تعمیر، برآمدات کے فروغ اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ کاری کے ذریعے زیر التوا امور حل کریں اور مقررہ مدت کے اندر منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔



