
’مڈ ٹرم الیکشن ایران جنگ کے باعث ہارے،‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا واضح اعتراف
تاہم انہوں نے مزید کہا، ’’اگر مجھے دوبارہ ایسا کرنا پڑے تو میں پھر بھی یہی کروں گا، کیونکہ طویل مدت میں یہی واحد حل ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
جاوید اختر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ ایسا کرنا پڑے تو وہ یہی فیصلہ کریں گے۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ٹرمپ کی ریپبلکنز کو بھاری شکست سے دوچار کیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے جب ٹرمپ سے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا، جس میں انہوں نے ایران جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی وجہ قرار دیا تھا تو امریکی صدر نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ بات بڑی حد تک درست ہے کیونکہ اس جنگ کے باعث مختصر مدت کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا۔‘‘
تاہم انہوں نے مزید کہا، ’’اگر مجھے دوبارہ ایسا کرنا پڑے تو میں پھر بھی یہی کروں گا، کیونکہ طویل مدت میں یہی واحد حل ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
ڈیموکریٹس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ڈیموکریٹس کو مواخذے کی کارروائی سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اگر انہوں نے ایسا کیا تو ڈیموکریٹک پارٹی تباہ ہو جائے گی۔‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مواخذے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ انہیں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایوان نمائندگان میں دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم سینیٹ نے انہیں مجرم قرار دے کر عہدے سے نہیں ہٹایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کی نگرانی کرنے والے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کر رہے ہیں۔

امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا، ایرانی رہنما
امریکہ کے ساتھ چیف ایرانی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی عوام نے وسط مدتی انتخابات میں ’’جنگ کے خلاف ووٹ‘‘ دیا ہے۔
باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہم اس پیغام کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت عالمی طاقتوں اور دباؤ ڈالنے والوں کے مفادات کے لیے اپنے عوام کی خواہشات کو نظر انداز کرتی ہے تو اسے ایران کے جوابی حملے ایک ڈراؤنے خواب کی صورت میں بھگتنا پڑیں گے۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ انہیں امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی قوم کے خلاف امریکی دشمنی میں کوئی تبدیلی آئے گی، وہ سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس کے ’’بہت وسیع تر نتائج‘‘ سامنے آئیں گے۔



