تازہ ترینمشرق وسطیٰ

بھارت نے 1.5 بلین ڈالر مالیت کا 92 گیگا واٹ گھنٹے کا انرجی اسٹوریج پلان لانچ کر دیا

نئی دہلی حکومت کے اعلانیہ اہداف کے مطابق 2070ء تک اس ملک سے ماحول دشمن ضرر رساں گیسوں کے فضا میں اخراج کی شرح عملاﹰ صفر کر دی جائے گی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

بھارتی حکومت نے ملک میں قابل تجدید ذرائع سے توانائی کی پیداوار کے طرف زیادہ مؤثر اور تیز رفتار منتقلی کے لیے 1.5 بلین ڈالر مالیت کا ایک ایسا منصوبہ لانچ کر دیا ہیے، جس کے تحت آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس سب سے بڑے ملک میں 92 گیگا واٹ گھنٹے توانائی کی اسٹوریج کے ایک پلان کو عملی شکل دی جائے گی۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعرات پانچ نومبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات ملکی حکومت کی طرف سے کیے گئے ایک اعلان میں کہی گئی۔

بھارت سبز مکانی گیسوں کے فضا میں اخراج کا باعث بننے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے، جو اپنے ہاں توانائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات کو پور اکرنے کے لیے ابھی تک کوئلے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو بہت زیادہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

بھارت میں ماحول دوست ذرائع مثلاﹰ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار (تصویر) کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے،فائل فوٹوتصویر:

بھارت کی مجموعی آبادی اس وقت 1.4 بلین سے بھی زیادہ ہے اور وہاں توانائی کی ضروریات مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں حکومت توانائی کے حصول کے متبادل اور قابل تجدید ذرائع کے استعمال کی ترویج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

نئی دہلی حکومت کے اعلانیہ اہداف کے مطابق 2070ء تک اس ملک سے ماحول دشمن ضرر رساں گیسوں کے فضا میں اخراج کی شرح عملاﹰ صفر کر دی جائے گی۔

اس پس منظر میں اب جو منصوبہ شروع کیا گیا ہے، وہ مالی سال 2026 اور 2027ء میں شروع ہو کر مالی سال 2030ء اور 2031ء میں مکمل ہو جائے گا۔ اس کے ذریعے اس جنوبی ایشیائی ملک میں مجموعی طور پر ایسی انرجی تنصیبات کی تعمیر و تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا، جن کے ذریعے 92 گیگا واٹ گھنٹے تک توانائی کو ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

بھارت سبز مکانی گیسوں کے فضا میں اخراج کا باعث بننے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہےتصویر: DW

وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد سے ملک میں ’’توانائی کے زیادہ قابل انحصار ذرائع، انرجی سیکٹر میں ماحول دوست ذرائع سے توانائی کے حصول کے نظاموں کے بہتر انضمام اور بہتر انرجی سکیورٹی کو یقینی‘‘ بنایا جا سکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button