
دنیا کے کم اور درمیانے درجے کی اوسط فی کس سالانہ آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کے ذمے بیرونی قرضوں کی مجموعی مالیت گزشتہ برس بہت زیادہ ہو کر 9.4 ٹریلین ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن سے جمعرات پانچ نومبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بات عالمی بینک کی طرف سے بتائی گئی۔
ورلڈ بینک کی طرف سے بتایا گیا کہ 2025ء میں مختلف براعظموں کے ترقی پذیر ممالک کے ذمے واجب الادا بیرونی قرضوں کی مالیت اس لیے بھی 9.4 ٹریلین ڈالر کی ایک نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی کہ پچھلے برس ان ممالک کے قرضوں کی مالیت میں 5.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔
ورلڈ بینک کی طرف سے بتایا کہ گزشتہ برس ترقی پذیر ممالک نے اپنے لیے جو نئے قرضے لیے، ان میں نجی قرض دہندگان کی طرف سے مہیا کی جانے والی رقوم میں تقریباﹰ 35 فیصد کا ہوش ربا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا اور ایسے نئے قرضوں کی کل مالیت 251 بلین ڈالر رہی۔

اس کے علاوہ پچھلے سال جن ترقی پذیر ریاستوں کے ذمے بیرونی قرضوں میں سب سے تیز رفتاری سے اضافہ ہوا، ان کا شمار پہلے ہی دنیا کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔
واشنگٹن میں قائم ورلڈ بینک کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس کی اس مالیاتی صورت حال کے تسلسل میں ہی اس سال بھی انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹوں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
عالمی بینک کے مطابق اس طرز عمل کی وجہ سے یہ کلیدی سوال اب اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ آیا ان قرضوں کی فراہمی کی شرائط قرض لینے والے ممالک کے لیے واقعی قابل عمل اور دیرپا ثابت ہو سکتی ہیں اور یہ بھی کہ آیا یوں حاصل کی جانے والی قرضوں کے رقوم متعلقہ ممالک میں عملاﹰ ان شہریوں اور اداروں تک پہنچ بھی رہی ہیں، جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
عالمی بینک کی طرف سے یہ سب حقائق اس ادارے کی بین الاقوامی قرضوں سے متعلق تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتائے گئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک کے ذمے بیرونی قرضوں میں 2025ء میں ہونے والا اضافہ 2021ء کے بعد سے آج تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ تب کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے یہ شرح بہت زیادہ رہی تھی۔
ساتھ ہی اس رپورٹ میں عالمی بینک کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرونی قرضوں کے اتنے زیادہ بوجھ کی وجہ سے قرض لینے والے ممالک کی مالیاتی صورت حال کے باعث وہاں تعلیم، بنیادی ڈھانچے، صحت اور روزگار جیسے شعبوں کے لیے درکار نئی سرمایہ کاری کو بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔



