
دنیا تبدیلی کے راستے پر !……..ناصف اعوان
انسانی تاریخ ہو یا ملکی تاریخ اس میں ٹھہراؤ کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ ہم نے اپنی زندگی میں اقتدار کو ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہوتے پایا ہے
سیاسی لوگ جیسے نظر آتے ہیں ویسے ہوتے نہیں ان کے کئی رنگ اور کئی روپ ہوتے ہیں کہ جب عوام میں ہوتے ہیں تو ان کے رنگ کچھ ہوتے ہیں اور جب ایوانوں میں جاتے ہیں تو کچھ اور دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو سُکھ نہیں مل سکا دکھ ہی ان کے گرد رقصاں ہیں وہ سوچتے ہیں کہ شاید اناسی برس گزرنے کے بعد اہل اختیار کا رنگ بدل جائے جسے دیکھ کر انہیں راحت و آرام میسر آجائے مگر ان میں وہ خلوص کہاں جو انہیں خوشیاں دے سکے لہذا زندگی بے کیف و مضمحل ہے اس کی یہ کیفیت ختم ہونے نہیں آرہی اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ گہری ہوتی جارہی ہے۔ اب جب عوام ان سے التجا کر رہے ہیں کہ انہیں بھی کچھ آسانیاں دے دو تھوڑی سی خوشحالی کی جھلک دکھا دو تو وہ ماتھے پر شکنیں ڈالتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ ان کے بس میں نہیں۔ معذرت کے ساتھ انہیں اپنے مفادات کا تحفظ عزیز ہے وہ اقتدار کی دنیا میں اتنے محو ہیں کہ ان کو یہ احساس ہی نہیں کہ منظر کوئی بھی ہو دائمی نہیں ہوتا۔ اسے ایک نہ ایک روز تبدیل ہو جانا ہوتا ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ منظر جازب نظر اسی طرح رہے گا ۔
انسانی تاریخ ہو یا ملکی تاریخ اس میں ٹھہراؤ کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ ہم نے اپنی زندگی میں اقتدار کو ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہوتے پایا ہے۔ کبھی منتخب اور کبھی طالع آزمائی کی صورت میں ۔ اگرچہ ہر طالع آزما نے ایک طویل مدت تک ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی مگر اسے آخر کار تخت سے اترنا ہی پڑا جو منتخب ہو کر اقتدار کی ”پینگ“ پر بیٹھے وہ بھی اپنا عرصہ پورا کرنے کے بعد گھر چلے گئے۔ یہ ستم ظریفی نہیں کہ جو بھی حکمران بنا اس نے عوام کو بیوقوف سمجھا یا بنایا جبکہ وہ اپنی سادگی اور اس پربھروسا کی بنا پر اس سے امیدیں وابستہ کر لیتے۔ انہیں کیا علم کہ ان کے حکمران ان سے ایک فیصد بھی مخلص نہیں‘ انہیں تو اختیارات اور ریاستی پروٹوکول چاہیے ہوتا تھا لہذا وہ سادہ لوح لوگوں سے جو وعدے کرتے انہیں عارضی خوشی ہی دیتے پھر جب چند برس گزرنے کے بعد وہ یہ دیکھتے کہ ابھی تک ان کے مسائل حل نہیں ہوئے تو وہ لب کشائی کرنے لگتے اس پر حاکمان وقت چھوٹے چھوٹے سطحی مسائل حل کردیتے اور رخصت ہو جاتے۔
یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اس وقت جو حکمران ہیں وہ آنے سے پہلے کہہ رہے تھے کہ وہ معیشت کو مستحکم کر دیں گے جوکہ مستحکم ہو رہی تھی معاملات مملکت بہ احسن طریق چل رہے تھے مگر کسی کو یہ منظور نہیں تھا کہ ”کوئی“ لوگوں کی امیدوں کا محور بن جائے۔ اب جب تین چار برس بیت چکے ہیں تو آرزوؤں کی بستی میں اندھیرا چھایا ہوا ہے ؟ روشنی آئے بھی تو کیسے کہ جب اسے روشن کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو ؟ لہذا وطن عزیز کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے جن میں معاشی بحران شدید نظر آتا ہےکہ لوگ خود ُکُشیاں کر رہے ہیں اپنے اعضا تک فروخت کر رہے ہیں۔ دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے زلیل وخوار ہو رہے ہیں۔ اب اگر وہ ارباب اختیار سے کہتے ہیں تو انہیں خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے‘ وہ چپ کیسے ہوں ان کی زندگیوں میں خزاں ہی خزاں ہے مگر اہل اقتدار کو اس کی کوئی پروا نہیں وہ اپنی دنیا میں محو ہیں۔ ساتھ ساتھ اپنی تجوریاں بھی بھرتے جا رہے ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور ان کے دماغ سے یہ چیز چمٹی ہوئی ہے کہ انہوں نے اقتدار میں ہر صورت رہنا ہے جس کے لئے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے جو عوام ہیں وہ تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ وہ اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ ان پر معیشت کو ٹھیک کرنے کی بھی زمہ داری ڈال دی گئی ہے لہذا آئے روز ان پر ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے ۔ مہنگائی مافیا اودھم مچائے ہوئے ہے۔ رشوت سر عام لی جاتی ہے۔ بیوروکریسی انہیں گھٹیا اور کمتر تصور کرتی ہے۔ ہم اپنے کالموں میں تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ ملک میں چونکہ سیاسی عدم استحکام ہے اس لئے ترقی کی رفتار بہت سست ہے جو عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام ہے پھر بنیادی ترقی کا دُور دُور تک نام و نشان نہیں یہی وجہ ہے کہ جو قرضہ لیا جاتا ہے اور جن منصوبوں کے لئے لیا جاتا ہے ان سے قسطوں کی ادائی بہ مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ تر غیر پیداواری ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ لیوی کی مد سے اتنا پیسا اکٹھا کیا جا رہا ہے کہ آسانی سے قرضہ اتر سکتا ہے مگر دانستہ ایسا نہیں کیا جاتا تاکہ لوگ دباؤ میں رہیں ایسا مگر تادیر نہیں کیا جا سکتا کہ ہر دور میں جب بھی لوگوں کو نظر انداز کیا گیا۔ وہ ایک مدت تک تو خاموش رہے پھر ایسے اٹھے کہ سب کچھ بدل کے رکھ دیا لہذا یہ جو اہل اقتدار کا طرز عمل ہے جاری نہیں رہ سکتاکیونکہ عوامی اٹھان کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ تنگ آچکے ہیں اس نظام سے ان روایتی چہروں سے کہ بار بار وہ ان کے سامنے آجاتے ہیں اور موجیں کرتے ہوئے واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے اتنی دولت جمع کرلی ہے کہ ان کی کئی نسلیں اس سے مستفید ہو تی رہیں گی۔ یورپ کے موسموں سےلطف اٹھاتی رہیں گی مگر جو حال یہاں کے لوگوں کا ہو چکا ہے وہ تا حیات انہیں کوستے رہیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اُلو باٹوں کے کہنے سے کچھ نہیں ہو گا لہذا وہ اپنی دُھن میں مگن ہیں۔
بہرحال باتیں ہماری کڑوی ہیں مگر ہیں حقیقت پر مبنی لہذا سوچنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے آخر کار اسے تمام ہونا ہے تو کیوں نہ اسے محبت و خلوص کے ساتھ گزارا جائے جو دولت کے ڈھیر لگا رہے ہیں انہوں نے بھی سدا یہاں نہیں رہنا انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عوام کو لاٹھی کی نہیں پیار کی زبان سمجھ آتی ہے پھر وہ اسے کبھی نہیں بھلاتے اسے صدیوں یاد رکھتے ہیں۔ یہاں ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اس وقت جو سلوک ایک سیاسی جماعت اور اس کے کارکنوں سے کیا جارہا ہے۔ اس کے بجائے نرمی و محبت کا رویہ اختیار کیا جائے ۔ اس سے مغربی اور یورپی ملکوں کو مثبت پیغام جائے گا جو سرمایہ کار ہماری معیشت کو مضبوط بنانے کےلئے یہاں نہیں آرہے وہ بھی ادھر کا رخ کریں گے ۔ یہ بات ہم ایسے کم عقلوں کو معلوم ہے تو شہ دماغوں کو کیوں نہیں لہذا سب اپنی اناؤں کے دائرے سے باہر نکلیں۔ مل کر ملک کو ترقی کے میدان میں اتنا آگے لے جائیں کہ دنیا حیران رہ جائے ایسا قطعی مشکل نہیں بس ضرورت ہے تو متحد ہونے کی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی۔ اب کچھ لگ رہا ہے کہ ایک بڑے اکٹھ کو محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ دنیا کی سیاست اور اس کا نظام تبدیل ہونے جا رہا ہے جس میں زندگی آسان اور سہل ہونے کی قوی امید ہے۔
حرف آخر یہ کہ عوام سخت بیزار ہیں موجودہ صورت حال سے کہ جو ان کو خوشحالی کی منزل سے دھیرے دھیرے دور لے جا رہی ہے مگر جاگتے ذہن ایسا نہیں چاہتے۔ اس کا اظہار وہ کھلے عام کر رہے ہیں !


