پیر مشتاق رضویکالمز

پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ، "ھنوز دلی دور است”…… پیر مشتاق رضوی

ایک انتہائی زمینی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جسے اکثر اسلام آباد میں بیٹھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے پنجاب کی دھند یعنی فوگ ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پنجاب کی سیاست میں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری ہوا ہے جس نے صوبے بھر کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیس نمبر 10-2025-LGE-P کی سماعت مورخہ 6 نومبر 2026ء بعنوان "کنڈکٹ آف لوکل گورنمنٹ الیکشنز ان دی پروونس آف پنجاب”کے سلسلے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خود کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔حکومت پنجاب کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت الیکشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، ریٹرننگ آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کی تقرریوں کا تمام ریکارڈ کمیشن کو فراہم کر دیا گیا ہے اور انتظامی طور پر کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک انتہائی زمینی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جسے اکثر اسلام آباد میں بیٹھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے پنجاب کی دھند یعنی فوگ ہے ان کا کہنا تھا کہ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں پنجاب میں دھند اور سردی کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ ٹرانسپورٹ، عملے کی نقل و حرکت اور پولنگ کے انتظامات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، لہٰذا الیکشن 20 جنوری 2027ء کے بعد رکھے جائیں تاکہ شفاف اور پرامن الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکے۔الیکشن کمیشن نے اس استدعا کو محض ایک انتظامی درخواست نہیں سمجھا بلکہ آئین کی روح کے مطابق پرکھا۔ کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140-A جس میں مقامی حکومتوں کا قیام لازم قرار دیا گیا ہے، آرٹیکل 219(d) اور 218(3) جس کے تحت صاف، شفاف اور بدعنوانی سے پاک الیکشن کروانا کمیشن کا آئینی فرض ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ آرڈر کے پیرا نمبر 4 میں وہ تاریخی سطریں درج ہیں جن کا ہر وارڈ اور ہر یونین کونسل کا کارکن منتظر تھا کہ پنجاب میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات اب 7 فروری 2027ءکو منعقد ہوں گے، اور حکومت پنجاب اس کے لیے سکولوں کی دستیابی اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام انتظامات فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔بظاہر تو یہ تاریخ پنجاب کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز لگتی ہے۔ 2015ء کے بعد سے پنجاب بلدیاتی نظام کے بغیر چل رہا ہے، جس کا خمیازہ عام آدمی بھگت رہا ہے۔ ایم پی اے اور ایم این اے گلی، نالی اور نلکے کے مسائل میں الجھے رہے اور اصل قانون سازی پیچھے رہ گئی۔ جب یہ نظام بحال ہوگا تو پسماندہ ترین علاقوں میں بھی شہری سہولیات کی فراہمی اور مقامی ترقی کے حوالے سے اس کے گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اجارہ دار سیاست کے علمبردار سرمایہ داروں، سرداروں اور وڈیروں کی سیاست کے ساتھ ساتھ اب ایک غریب، بے سہارا مگر باکردار ورکر کے لیے بھی چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلر بننے کا دروازہ کھلے گا۔ یہی وہ نرسری ہے جہاں سے کل کا ایم پی اے اور ایم این اے جنم لیتا ہے۔ بلدیاتی نمائندے آنے سے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی، ترقیاتی فنڈز یونین کونسل تک جائیں گے، ٹاؤٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو اپنے مسائل کے لیے تختِ لاہور کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا۔لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ تلخ ہے کہ شاید یہ اعلان محض ایک رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں، اور اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ "ھُنوز دلی دور است”۔اس کی پہلی وجہ خود حکومت پنجاب کی نیت ہے۔ کیا مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت دل سے بلدیاتی الیکشن چاہتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ نہیں رہی، کیونکہ بلدیاتی نظام فعال ہوتے ہی ایم پی اے اور ایم این اے کے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات تقسیم ہو جاتے ہیں۔ دوسری وجہ خود یہ تاریخ ہے۔ کہ
7 فروری 2027ء سے ٹھیک ایک ماہ بعد رمضان المبارک اور اس کے فوراً بعد گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہو جائے گا، جو پنجاب کی سیاست میں ہمیشہ الیکشن ملتوی کرنے کا بہانہ بنتا رہا ہے۔ماضی میں بھی چیف سیکرٹری صاحبان اسی طرح الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر یقین دہانیاں کراتے رہے ہیں اور ہر بار کوئی نیا بہانہ بنا کر تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔ آج دھند کا بہانہ ہے، کل مردم شماری، پرسوں حلقہ بندیاں اور ترسوں فنڈز کی کمی کا رونا ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے تو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر کے تاریخ دے دی، لیکن اس تاریخ پر عمل درآمد کروانا حکومت کی نیت سے مشروط ہے۔لہٰذا 7 فروری کی تاریخ کو حتمی سمجھنا سیاسی سادگی ہوگی۔ عوام کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ برادری، قبیلے اور پیسے کی بنیاد پر ووٹ دیں گے یا کارکردگی اور دیانتداری کو معیار بنائیں گے، لیکن اس سے پہلے حکومت کا امتحان ہے کہ وہ عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیتی بھی ہے یا نہیں۔ جب تک بلدیاتی نمائندے حلف نہیں اٹھا لیتے، تب تک یہی کہنا شاید درست ہوگا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن "ھُنوز دلی دور است”۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button