علی عباس کاظمیکالمز

قومی یکجہتی کا ادھورا سچ…….. علی عباس کاظمی

صفائی کرنے والے ہاتھوں کی ضرورت تو سب کو ہے، لیکن ان ہاتھوں سے مصافحہ کرنے میں بعض لوگوں کو آج بھی تردد ہوتا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان کسی ایک طبقے، مذہب یا مخصوص سماجی حیثیت رکھنے والے لوگوں کی جاگیر نہیں۔ اس ملک کی تعمیر میں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کی محنت شامل ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں ایک ایسا طبقاتی اور سماجی رویہ موجود ہے جو بعض شہریوں کو فطری طور پر برتر اور بعض کو کمتر سمجھتا ہے۔ یہ سوچ صرف معاشرتی تعلقات تک محدود نہیں رہتی بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار اور فیصلہ سازی کے مواقع پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم اس تفریق کو ختم کرنے کے بجائے اکثر اسے معاشرتی حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔مسیحی برادری کی معاشی اور سماجی محرومی اس صورت حال کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پنجاب کے متعدد علاقوں میں اس برادری کے خاندان نسل در نسل محدود معاشی وسائل اور مخصوص پیشوں سے وابستہ رہے ہیں۔ صفائی کے شعبے میں ان کی بڑی تعداد کو دیکھ کر ہم نے ایک خطرناک سماجی تاثر قائم کر لیا ہے، گویا بعض کام مخصوص مذہبی شناخت رکھنے والے لوگوں ہی کے لیے ہیں۔ ایک نوجوان اگر تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا افسر بننے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے اس کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس کی مذہبی شناخت اس کے خوابوں کی حد بندی کیسے کر سکتی ہے؟ صفائی کرنے والے ہاتھوں کی ضرورت تو سب کو ہے، لیکن ان ہاتھوں سے مصافحہ کرنے میں بعض لوگوں کو آج بھی تردد ہوتا ہے۔ یہ رویہ کسی ایک مذہبی برادری کی توہین نہیں بلکہ ہماری اپنی اخلاقی تربیت کا امتحان ہے۔ ہمارے معاشرے نے پیشوں کو بھی طبقاتی درجہ بندی میں بانٹ رکھا ہے۔
معاشی محرومی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ جس گھر میں والدین کی آمدنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو، وہاں بچوں کی معیاری تعلیم، علاج اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی محض خواہش بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے خاندانوں کے نوجوان مقابلے کی دوڑ میں پہلے ہی کئی قدم پیچھے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ معاشی طور پر کامیاب نہیں ہو پاتے تو ان کی ناکامی کو محنت کی کمی یا صلاحیت کے فقدان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ مقابلے میں شامل ہونے والوں کو ابتدا ہی سے یکساں سہولتیں میسر تھیں یا نہیں۔ غیر مساوی حالات میں حاصل ہونے والے نتائج کو مساوی قابلیت کا ثبوت سمجھنا بھی ایک فکری ناانصافی ہے۔ معمولی قرض، بیماری یا گھریلو ضرورت سے شروع ہونے والی مالی مجبوری بعض اوقات نسل در نسل جاری رہتی ہے۔بچے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے والدین کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں غربت اپنے تسلسل کے لیے نئی نسل بھی حاصل کر لیتی ہے۔ یہ صورت حال صرف چند بھٹہ مالکان کے رویوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی ہے جو کمزور کی محنت کا تحفظ کرنے کے بجائے طاقتور کے مفادات کے سامنے خاموش دکھائی دیتا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے میں طبقاتی دیواریں گرانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن جب تعلیمی اداروں میں مذہبی تعصب، تحقیر آمیز رویے اور امتیازی نصابی رجحانات موجود ہوں تو یہی ادارے بعض بچوں کے لیے احساسِ کمتری کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک بچہ جب اپنے مذہب یا شناخت کی وجہ سے خود کو دوسروں سے مختلف اور کمتر محسوس کرنے لگے تو اس کی شخصیت اور تعلیمی کارکردگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ایک ایسا باشعور انسان تیار کرنا ہے جو دوسرے انسانوں کے اختلاف کو برداشت کر سکے۔ اگر اسکول ہی بچوں کو تفریق کا سبق دینے لگیں تو پھر ہم مستقبل میں روادار معاشرے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟مذہبی عدم تحفظ بھی معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ توہینِ مذہب کے قوانین کا غلط استعمال، بے بنیاد الزامات اور انتہا پسندانہ رویے کسی بھی شہری کو خوف زدہ کر سکتے ہیں۔الزام کو جرم اور ہجوم کے دباؤ کو انصاف سمجھ لینا کسی مذہب کی خدمت نہیں بلکہ قانون کی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں اور کسی شخص کو قانونی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے مجرم تصور نہ کیا جائے۔
اقلیتی شہریوں کو صرف صفائی یا معمولی ملازمتوں میں نمائندگی دینا کافی نہیں۔ انہیں اعلیٰ تعلیم، انتظامی عہدوں، کاروباری مواقع اور فیصلہ سازی کے اداروں تک بھی مساوی رسائی ملنی چاہیے۔ کسی برادری کو ملک کی خدمت کے لیے تو موزوں سمجھنا، مگر ملک کے اہم فیصلوں میں شریک کرنے کے لیے قابل نہ سمجھنا ایک ایسا تضاد ہے جس پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔اس تمام صورت حال میں صرف ریاست کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی کافی نہیں۔ معاشرتی تعصب ہمارے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور روزمرہ گفتگو میں بھی موجود ہے۔ ہم بچوں کو انسانیت کا درس دیتے ہیں لیکن بعض اوقات اپنے عملی رویوں سے انہیں مذہبی اور طبقاتی تفریق سکھاتے ہیں۔ کسی غریب کے ساتھ ہمارا برتاؤ، کسی محنت کش کے لیے ہمارے الفاظ اور مختلف مذہب کے ماننے والوں کے بارے میں ہماری رائے ہماری اصل تربیت ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اس میں نہیں کہ یہاں ایک ہی مذہب، طبقے یا سوچ کے لوگ آسودہ حال ہوں، بلکہ اس میں ہے کہ مختلف شناخت رکھنے والے تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ قومی یکجہتی کے نعرے اسی وقت معتبر ہو سکتے ہیں جب کمزور شہری کو بھی اپنے حقوق کے لیے کسی طاقتور کی سفارش یا کسی بااثر شخصیت کی سرپرستی درکار نہ ہو۔ وطن سے محبت صرف پرچم لہرانے، قومی ترانے پڑھنے اور تقریبات میں شرکت کرنے کا نام نہیں۔ وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ناانصافی کو پہچانیں اور کسی دوسرے انسان کے حق پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ جو معاشرہ اپنے کمزور شہری کو عزت، تحفظ اور آگے بڑھنے کا موقع نہیں دے سکتا، وہ اپنی ترقی کے دعووں سے خود کو زیادہ دیر مطمئن نہیں رکھ سکتا۔ جس وطن میں کچھ لوگوں کو اپنی جگہ ثابت کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑے، وہاں سب سے پہلے ریاست کو اپنے انصاف کا حساب دینا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button