بین الاقوامیاہم خبریں

بھارت کے امراء کی نئی پرتعیش علامت، پانی

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں پریمیم واٹر 400 ملین ڈالر کا کاروبار بن چکا ہے

روئٹرز کے ساتھ

1.4 ارب آبادی والے اس ملک میں صاف پانی ایک لگژری یا عیاشی ہے جہاں محققین کے مطابق 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے۔

نئی دہلی میں اشیائے خورد و نوش کی ایک دکان میں اونتی مہتا فرانس، اٹلی اور بھارت سے منگوائے گئے مشروبات کا ‘بلائنڈ ٹیسٹنگ‘ سیشن یعنی آنکھیں بند کر کے چکھنے کا مقابلہ منعقد کر رہی ہیں۔ اور یہ مشروبات شراب نہیں بلکہ پانی ہے۔

شرکاء چھوٹے گلاسوں کے ذریعے فرانسیسی آلپس سے آئے ‘ایویئن‘، جنوبی فرانس کے ‘پیریئر‘، اٹلی کے ‘سان پیلیگرینو‘ اور بھارت کے کوہِ اراولی کے دامن سے نکلنے والے پانی ‘آوا‘ کے نمونوں میں معدنیات، کاربونیشن اور نمکیات کی جانچ کر رہے ہیں۔

32 سالہ مہتا، جو خود کو بھارت کی سب سے کم عمر ‘واٹر سوملیئر‘ (پانی کی ماہر) قرار دیتی ہیں، کہتی ہیں: ”ان سب کا ذائقہ مختلف ہوگا… آپ کو ایسا پانی منتخب کرنا چاہیے جو آپ کو کچھ غذائی افادیت دے سکے۔‘‘ ان کا خاندان ‘آوا‘ منرل واٹر برانڈ کا مالک ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں پریمیم واٹر 400 ملین ڈالر کا کاروبار بن چکا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ یہاں کے امیر اسے ایک نئے اسٹیٹس سمبل (سماجی رتبے کی علامت) کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بھارت میں پریمیم منرل واٹر کی ایک لیٹر کی بوتل کی قیمت تقریباً ایک ڈالر یعنی تقریباً 90 بھارتی روپے ہے، جبکہ درآمد شدہ برانڈز کی قیمت تین ڈالر سے زیادہ ہے، جو ملک کے سب سے سستے بوتل بند پانی سے 15 گنا زیادہ ہے۔

1.4 ارب آبادی والے اس ملک میں صاف پانی ایک لگژری یا عیاشی ہے جہاں محققین کے مطابق 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے۔ نل کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے، اور گزشتہ دسمبر میں اندور شہر میں آلودہ نل کا پانی پینے سے 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت میں بہت سے لوگ بوتل بند پانی کو ضرورت سمجھتے ہیں اور 20 سینٹ (تقریباً 20 روپے) والی عام بوتلیں ہر جگہ دستیاب ہیں۔ یہ مارکیٹ سالانہ پانچ ارب ڈالر کی ہے اور اس میں 24 فیصد سالانہ اضافے کا امکان ہے، جو دنیا میں تیز ترین شرح میں سے ایک ہے۔

ایک خاتون بوتل سے پانی پی رہی ہیں۔
1.4 ارب آبادی والے اس ملک میں صاف پانی ایک لگژری یا عیاشی ہے جہاں محققین کے مطابق 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے۔تصویر: Sudipta Das/NurPhoto/NurPhoto/picture alliance

یورومانیٹر کے مطابق، امریکہ اور چین میں بوتل بند پانی کی طلب سہولت کی وجہ سے ہے، جہاں یہ 30 ارب ڈالر سے زائد کی مارکیٹ ہے لیکن وہاں اس مارکیٹ کی شرح نمو صرف چار سے پانچ فیصد ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں پریمیم واٹر کے شعبے میں طلب بہت زیادہ ہے، جس کا مارکیٹ شیئر 2021 میں صرف ایک فیصد تھا جو اب بڑھ کر آٹھ فیصد ہو گیا ہے۔

بالی وڈ ستارے اور کاروباری گروپس کی توجہ

عام 20 سینٹ والی پلاسٹک کی بوتلیں زیادہ تر پیپسی، کوکا کولا اور مارکیٹ لیڈر ‘بسلری‘ نامی برانڈ تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، وہ گھروں میں پیوریفائرز (آر او پلانٹ) لگاتے ہیں جو پانی صاف تو کرتے ہیں لیکن اس میں سے معدنیات بھی نکال دیتے ہیں۔

بالی وڈ اداکارہ بھومی پیڈنیکر اور ان کی بہن نے ‘بیک بے‘ کے نام سے ایک برانڈ لانچ کیا ہے جو 2.2 ڈالر میں منرل واٹر کے کارٹن فروخت کر رہا ہے۔ ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے سی ای او سنیل ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ پریمیم واٹر ان کی ترجیح ہے کیونکہ صحت کے بارے میں فکر مند صارفین قیمت کی پرواہ کیے بغیر اسے خریدنے کو تیار ہیں۔

ہماچل پردیش میں ٹاٹا کی ‘ہمالین‘ منرل واٹر فیکٹری میں پانی قدرتی زیر زمین آبی ذخائر سے حاصل کیا جاتا ہے اور اسے جدید مشینوں کے ذریعے بوتلوں میں بھرا جاتا ہے۔

چشموں کی تلاش

زیادہ تر بھارتی سادہ پانی پسند کرتے ہیں، لیکن اب کاربونیٹڈ یا ‘اسپارکلنگ‘ پانی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ ‘فوڈ اسٹوریز‘ نامی اسٹور کی شریک بانی اونی بیانی کا کہنا ہے کہ نیویارک سے درآمد شدہ ‘ساراٹوگا اسپرنگ واٹر‘ کی 355 ملی لیٹر کی بوتل، جس کی قیمت 799 بھارتی روپے (9 ڈالر) ہے، چند ہی دنوں میں فروخت ہو گئی۔

بھارت میں پینے کے پانی کی بوتلیں
بھارت میں بہت سے لوگ بوتل بند پانی کو ضرورت سمجھتے ہیں اور 20 سینٹ (تقریباً 20 روپے) والی عام بوتلیں ہر جگہ دستیاب ہیں۔تصویر: Sushavan Nandy/ZUMA Press/IMAGO

اگرچہ درآمد شدہ پانی پر 30 فیصد سے زائد ٹیکس ہے، جس کی وجہ سے نیسلے اور ڈینون جیسے برانڈز کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

واٹر سوملیئر مہتا کہتی ہیں: ”جب آپ نل کھولتے ہیں، تو آپ کو ‘آوا‘ یا ‘ایویئن‘ جیسا پانی نہیں ملتا… اور درحقیقت آپ اسی معیار کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘

تاہم، جہاں کچھ لوگ اس تجربے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہیں عام صارفین کے لیے یہ قیمتیں ہضم کرنا مشکل ہیں۔ ایک ایگزیکٹو ہوشنی ولبھانینی کے بقول: ”سچی بات تو یہ ہے کہ یہ کافی مہنگا ہے۔ روزانہ کے استعمال کے لیے یہ جیب پر بہت بھاری پڑے گا۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button