پاکستان کا نیا سنگِ میل: EO-3 سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ، خلائی میدان میں بڑی پیش رفت
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس کامیابی پر سپارکو کے انجینئرز، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو خراج تحسین پیش کیا
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے چین کے تعاون سے اپنے جدید مقامی الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ EO-3 کی کامیاب لانچ کا اعلان کر دیا ہے، جسے ملکی خلائی پروگرام میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔
سپارکو کے مطابق EO-3 سیٹلائٹ جدید امیجنگ صلاحیتوں سے لیس ہے، جو پاکستان کو ارتھ آبزرویشن کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب مزید مضبوطی سے لے جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات سے نمٹنے، زرعی ترقی، خوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی نگرانی جیسے اہم شعبوں میں انتہائی مؤثر ڈیٹا فراہم کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ EO-3 نہ صرف ملک میں ڈیجیٹل میپنگ اور ریموٹ سینسنگ کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ حکومتی اداروں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کر کے پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ خاص طور پر سیلاب، زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران فوری اور درست صورتحال جاننے میں یہ سیٹلائٹ کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس کامیابی پر سپارکو کے انجینئرز، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ EO-3 سیٹلائٹ کا کامیاب آغاز پاکستان کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے اور یہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر چین کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ دوستی اور تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ چین کی مسلسل حمایت نے پاکستان کے خلائی پروگرام کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سپارکو حکام کے مطابق EO-3 سیٹلائٹ ایک وسیع تر ارتھ آبزرویشن سسٹم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں قومی ترقی کو فروغ دینا اور پائیدار معاشی و سماجی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا نہ صرف حکومتی منصوبہ بندی بلکہ نجی شعبے، تحقیقاتی اداروں اور تعلیمی میدان کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
ماہرین کے مطابق EO-3 کی کامیاب لانچ پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے اور مستقبل میں مزید جدید سیٹلائٹس کی تیاری اور لانچ کے لیے راہ ہموار کرے گی۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔



