
پاکستان میں بسنت کی واپسی: لاہور میں رنگ، رونق، کروڑوں کا کاروبار اور چھتوں کی جنگ
اندرون لاہور کی مشہور چھتوں کے نرخ اس قدر بلند ہیں کہ ان کے بارے میں پوچھ گچھ کو بھی بے فائدہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور میں برسوں بعد بسنت ایک بار پھر آ پہنچی ہے۔ وہی رنگ، وہی شور، وہی پتنگیں اور وہی چھتوں کی مانگ—بس فرق یہ ہے کہ اب یہ سب ایک نئے سماجی، معاشی اور تکنیکی تناظر میں ہو رہا ہے۔ تہوار باقاعدہ شروع ہونے سے پہلے ہی شہر میں پتنگوں کی فروخت کا حجم 60 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ کاروباری حلقے اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ تعداد بسنت کے دنوں میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
چھتیں کرائے پر، ریٹ آسمان پر
لاہور کے مرکزی علاقوں خصوصاً اندرون شہر میں چھتیں بسنت کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکی ہیں۔ داتا دربار کے گردونواح میں مقیم ایک شہری نے اپنی 10 مرلے کی چھت بسنت کے تینوں دنوں کے لیے بک کر رکھی ہے۔ فی دن 25 لاکھ روپے کے عوض لنچ اور شام کے بار بی کیو کی پیش کش کے ساتھ یہ چھت کرائے پر دی گئی، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ مزید رقم کی پیش کش کے باوجود پرانی بکنگ منسوخ نہیں کی جا سکی۔
اندرون لاہور کی مشہور چھتوں کے نرخ اس قدر بلند ہیں کہ ان کے بارے میں پوچھ گچھ کو بھی بے فائدہ سمجھا جا رہا ہے۔
ہوٹل انڈسٹری فل، ریسٹ ہاؤسز میں بھی جگہ نہیں
بسنت نے نہ صرف مقامی بلکہ بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لیا ہے۔ امریکہ سے آنے والی ایک فیملی کے لیے قیام و طعام کا بندوبست وسط دسمبر میں ہی شروع کیا گیا، مگر شہر کے معروف ہوٹلز نے صاف جواب دیا: “سوری سر، بُکنگ فل ہے۔”
پوش علاقوں کے ریسٹ ہاؤسز اور حتیٰ کہ سرکاری و نیم سرکاری گیسٹ ہاؤسز بھی پہلے ہی بھر چکے تھے۔ آخرکار ایک نجی مہمان خانے نے دروازے کھولے، جس کے بعد چند روز کے لیے مسئلہ حل ہو سکا۔ نو فروری کے بعد حالات معمول پر آنے کی توقع ہے۔
معیشت میں جان، چہروں پر مسکراہٹ
ایک طویل عرصے بعد شہر میں کسی بڑے ایونٹ نے معاشی سرگرمی کو مہمیز دی ہے۔ پتنگ، ڈور، کھانے پینے، چھتوں کے کرائے، سجاوٹ اور سیکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں روزگار اور آمدن پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ مہنگائی اور سولر پینلز کی وجہ سے چھتوں پر جگہ کی کمی متوسط طبقے کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے، مگر مجموعی طور پر شہر کے تھکے ہارے چہرے کسی حد تک کھلتے نظر آ رہے ہیں۔
بسنت: وسنت سے لاہور تک
بسنت کی جڑیں سنسکرت کے لفظ ’وسنت‘ سے ملتی ہیں، جس کا مطلب بہار ہے۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں مرتب کی گئی آئینِ اکبری میں بھی اس تہوار کا ذکر موجود ہے، جہاں اسے درباری ثقافت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تہوار مذہبی یا درباری دائرے سے نکل کر عوامی ثقافت کی علامت بن گیا۔
جین زی اور بسنت: زبان، اصطلاحات اور ایک ثقافتی خلا
سوشل میڈیا پر رنگ، پتنگ اور چھتوں کے چرچے کے ساتھ ساتھ ایک نیا موضوع بھی زیر بحث ہے: جین زی اور بسنت کے درمیان ثقافتی خلا۔ چونکہ یہ تہوار تقریباً پچیس برس بعد پوری آب و تاب سے منایا جا رہا ہے، اس لیے اس عرصے میں پیدا ہونے والی نسل کے لیے بسنت کی زبان، اصطلاحات اور روایت ایک نیا جہان ہے۔
تاوا، ڈیڑھ تاوا اور گُڈا: نئی نسل کے لیے ایک نیا لغت نامہ
تاوا، ڈیڑھ تاوا، گُڈا، مچھر، کپ، لیپو اور پری—یہ سب صرف پتنگیں نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی زبان ہیں۔
تلامیں کون ڈالے گا؟
کچپ کیسے نکالا جاتا ہے؟
استادی ٹھمکا کیا ہوتا ہے؟
پیچ کب ڈالنا ہے؟
پتنگ کنی کھا رہی ہو تو کیا کیا جائے؟
چیپی اور گانٹی کا جگاڑ کیسے لگے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب نہ یوٹیوب ٹیوٹوریلز دے سکتے ہیں اور نہ ہی اے آئی ایپلیکیشنز۔
اے آئی بمقابلہ استادی ٹھمکا
مصنف کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت خواہ کتنی ہی ترقی کر لے، وہ نہ تلامیں ڈال سکتی ہے، نہ کنی فٹ کر سکتی ہے اور نہ ہی گڈی کو ہلکورا دے کر آسمان پر اچھال سکتی ہے۔ جو لطف چھت پر کھڑے ہو کر استادی ٹھمکا لگانے میں ہے، وہ کسی اسکرین پر کہاں؟
امید کی ڈور
اس سب کے باوجود امید یہی ہے کہ لاہور کی چھتوں پر موجود بزرگ، استاد اور پرانے پتنگ باز نئی نسل کو چند گھنٹوں میں وہ سب سکھا دیں گے جو کتابوں، ویڈیوز اور چیٹ بوٹس سے ممکن نہیں۔
اختتامیہ: پتنگ، اختیار اور شاعری
بسنت محض ایک تہوار نہیں، یہ اختیار، توازن اور لمحے کی علامت بھی ہے—
میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا اِدھر گھٹا دیا، چاہا اُدھر بڑھا دیا
لاہور ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے—امید، رنگ اور ڈور کے ساتھ۔



