
سرکاری اثاثوں کی فروخت یا معاشی اصلاحات؟
ان برسوں میں درجنوں سرکاری ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے گئے۔ ان میں صنعتی یونٹس، بینک، توانائی کے منصوبے، مالیاتی ادارے اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں شامل تھیں
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں حکومت کو بیک وقت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک جانب بڑھتے ہوئے مالی خسارے، گردشی قرضے، خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے، محدود مالی وسائل اور بین الاقوامی مالیاتی دباؤ موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب عوام کی توقعات ہیں کہ انہیں سستی بجلی، معیاری خدمات، بہتر روزگار اور معاشی استحکام فراہم کیا جائے۔ انہی متضاد تقاضوں کے درمیان نجکاری ایک مرتبہ پھر قومی مباحثے کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔
نجکاری کا تصور پاکستان کے لیے نیا نہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں نے اسے معاشی اصلاحات کے ایک اہم جزو کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا بنیادی کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی، قانون نافذ کرنا، ریگولیشن اور عوامی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق جب حکومت صنعت، بینکنگ، ایئرلائنز، توانائی یا دیگر کاروباری سرگرمیوں میں براہ راست ملوث ہوتی ہے تو اکثر سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیاں، انتظامی کمزوریاں اور بدعنوانی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں، جن کے نتیجے میں قومی ادارے خسارے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس سوچ کے مطابق نجکاری سرکاری اداروں کو ایک نئی زندگی دے سکتی ہے۔ نجی شعبہ منافع، کارکردگی، مقابلے اور جدت کی بنیاد پر کام کرتا ہے، اس لیے وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یہی دلیل پاکستان میں نجکاری کی پالیسی کے آغاز کی بنیاد بنی۔ 1992 میں جب پاکستان نے نجکاری کا باضابطہ آغاز کیا تو اس کا مقصد معیشت میں حکومت کے کردار کو محدود کرنا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور خسارے میں چلنے والے اداروں کا بوجھ قومی خزانے سے ہٹانا تھا۔
ان برسوں میں درجنوں سرکاری ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے گئے۔ ان میں صنعتی یونٹس، بینک، توانائی کے منصوبے، مالیاتی ادارے اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں شامل تھیں۔ حکومتوں کا مؤقف رہا کہ نجکاری سے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ ان اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی اور ملکی معیشت میں نئی سرمایہ کاری آئے گی۔
نجکاری کے حامی آج بھی بینکاری کے شعبے کو پاکستان میں اس پالیسی کی کامیاب ترین مثال قرار دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سرکاری بینک ناقص کارکردگی، سیاسی دباؤ اور غیر پیشہ ورانہ فیصلوں کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔ قرضوں کی واپسی کا نظام کمزور تھا، سیاسی بنیادوں پر قرضے دیے جاتے تھے اور ادارے مسلسل مسائل کا شکار رہتے تھے۔ بعد ازاں جب یونائیٹڈ بینک اور مسلم کمرشل بینک جیسے ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے گئے تو ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
آج یہی ادارے نہ صرف منافع بخش ہیں بلکہ جدید بینکاری خدمات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، موبائل بینکنگ، آن لائن لین دین اور جدید مالیاتی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ نجکاری کے حامی اسے اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ اگر مناسب ماحول فراہم کیا جائے تو نجی شعبہ سرکاری اداروں سے بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں نجکاری کی کہانی صرف کامیابیوں تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ کئی سوالات، خدشات اور تنازعات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اس کی نمایاں مثال ہے۔ ایک وقت تھا جب پی آئی اے کو دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار کیا جاتا تھا اور کئی علاقائی ایئرلائنز نے اس کے تجربات سے فائدہ اٹھایا۔ لیکن وقت کے ساتھ سیاسی مداخلت، غیر ضروری بھرتیوں، انتظامی کمزوریوں اور مالی بدانتظامی نے اسے شدید خسارے میں دھکیل دیا۔
نجکاری کے حامی کہتے ہیں کہ اگر کوئی ادارہ ہر سال اربوں روپے کا نقصان کر رہا ہو تو اسے صرف قومی وقار کے نام پر برقرار رکھنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق جو وسائل ایک خسارے میں چلنے والی ایئرلائن پر خرچ ہو رہے ہیں وہ تعلیم، صحت، پانی، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر قومی اثاثے ان کی اصل مالیت سے کم قیمت پر فروخت کیے جائیں تو کیا یہ عوامی مفاد کے خلاف نہیں ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے ہر مرحلے پر قیمت، شفافیت اور طریقہ کار کے حوالے سے شدید بحث سامنے آتی رہی ہے۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری بھی پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس نجکاری کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں۔ موبائل فون کا پھیلاؤ، انٹرنیٹ کی رسائی، ڈیجیٹل مواصلات اور نئی ٹیکنالوجیز کی آمد نے پاکستانی معاشرے کو تبدیل کر دیا۔ تاہم اس کے باوجود بعض ماہرین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر نجکاری کے بعد معاہدوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہو اور حکومت اپنے مفادات کا مؤثر تحفظ نہ کر سکے تو اس کے طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے؟
نجکاری کے حوالے سے سب سے اہم بحث عوامی مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ اگر کوئی صنعتی یونٹ نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات نسبتاً محدود ہو سکتے ہیں، لیکن جب بجلی، گیس، پانی، ٹرانسپورٹ یا ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں کی بات آتی ہے تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔ یہ وہ خدمات ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ اگر نجی کمپنیوں کو مکمل آزادی دے دی جائے اور مؤثر نگرانی موجود نہ ہو تو صارفین کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک نے نجکاری کے ساتھ ساتھ مضبوط ریگولیٹری ادارے بھی قائم کیے ہیں تاکہ نجی کمپنیوں کی کارکردگی، قیمتوں اور خدمات کی نگرانی کی جا سکے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ریگولیٹری ادارے مطلوبہ سطح کی خودمختاری، استعداد اور اختیار نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ نجکاری کے ناقدین کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ نجکاری نہیں بلکہ کمزور نگرانی اور ناقص گورننس ہے۔
کراچی میں کے الیکٹرک کا تجربہ اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ حامیوں کے مطابق کمپنی نے تکنیکی نقصانات کم کیے، بجلی کی وصولیوں میں بہتری لائی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں آج بھی لوڈشیڈنگ، شکایات اور خدمات کے معیار سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نجی کمپنی کی مالی کارکردگی تو بہتر ہو جائے لیکن صارفین مطمئن نہ ہوں تو کیا اس نجکاری کو مکمل کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہی سوال آج بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کے حوالے سے بھی سامنے آ رہا ہے۔ حکومت اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے لائن لاسز کم ہوں گے، بلوں کی وصولی بہتر ہوگی اور نظام کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ بظاہر یہ دلائل منطقی معلوم ہوتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس سے عام صارف کو بھی فائدہ ہوگا؟ کیا بجلی سستی ہوگی؟ کیا لوڈشیڈنگ کم ہوگی؟ کیا شکایات کے ازالے کا نظام بہتر ہوگا؟ اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہوں تو پھر نجکاری کا مقصد محدود ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے توانائی کے شعبے کا ایک بڑا مسئلہ بجلی چوری بھی ہے۔ نجی مالک انتظامی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی تو لا سکتا ہے، لیکن قانون نافذ کرنا اور جرائم کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کوئی نجی کمپنی پولیسنگ نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجکاری بجلی چوری کا مکمل حل نہیں بلکہ ایک جزوی حل ہے۔ جب تک ریاستی ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کریں گے، توانائی کے شعبے کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہر سرکاری ادارے کی نجکاری ضروری ہے؟ دنیا کی کئی کامیاب معیشتوں میں اسٹریٹجک شعبے اب بھی ریاستی ملکیت میں ہیں۔ بعض ادارے قومی سلامتی، بنیادی خدمات یا طویل المدتی قومی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایسے اداروں کے بارے میں فیصلہ صرف مالی بنیادوں پر نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ادارے کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ اسے نجی شعبے کے حوالے کرنا قومی مفاد میں ہے یا نہیں۔
حالیہ برسوں میں سولر توانائی کی تیز رفتار ترقی نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں ایسی خامیاں موجود تھیں جن کی وجہ سے تقسیم کار کمپنیوں پر اضافی مالی دباؤ پڑ رہا تھا۔ دوسری جانب صارفین اور سولر انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ پالیسی میں تبدیلی سے قابل تجدید توانائی کے فروغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ تنازع دراصل پاکستان کے توانائی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کس سمت جانا چاہتا ہے؟ کیا مستقبل کا توانائی نظام مرکزی گرڈ پر مبنی ہوگا یا پھر سولر، بیٹری اسٹوریج اور مقامی پیداوار پر؟
پاکستان کے تین دہائیوں پر محیط تجربات ایک اہم سبق دیتے ہیں کہ اصل مسئلہ صرف ملکیت کا نہیں بلکہ گورننس کا ہے۔ اگر سرکاری ادارہ بدانتظامی کا شکار ہو تو وہ نقصان کرے گا، لیکن اگر نجی ادارے پر مناسب نگرانی نہ ہو تو وہ صارفین کا استحصال بھی کر سکتا ہے۔ اس لیے کامیابی کا انحصار اس بات پر نہیں کہ ادارہ سرکاری ہے یا نجی، بلکہ اس بات پر ہے کہ اسے کس طرح چلایا جا رہا ہے، اس کی نگرانی کتنی مؤثر ہے اور عوامی مفاد کا تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان کو اس وقت معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کو ہمیشہ کے لیے قومی خزانے پر بوجھ بنائے رکھنا بھی کوئی قابل عمل حکمت عملی نہیں۔ لیکن اسی طرح نجکاری کو ہر مسئلے کا واحد حل سمجھنا بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ نجکاری اس وقت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ شفافیت، احتساب، مضبوط ریگولیٹری نظام، سرمایہ کاری کی ضمانت، صارفین کا تحفظ اور قومی مفاد کے واضح اصول موجود ہوں۔
آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ نجکاری ہونی چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نجکاری کس طریقے سے، کن شرائط کے تحت اور کس مقصد کے لیے کی جا رہی ہے۔ اگر یہ عمل شفاف، منصفانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہو تو یہ معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے محض مالی دباؤ کم کرنے یا قلیل مدتی اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج مستقبل میں نئے مسائل اور تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ نجکاری کو ایک معاشی آلے کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ ہر معاشی مسئلے کے معجزاتی حل کے طور پر۔


