واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری، ایران کا تین ضمانتوں کا مطالبہ
ممکنہ فریم ورک مفاہمت کے مسودے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا ذکر کیا گیا ہے جس میں چین، روس اور پاکستان شامل ہوں گے۔
ایران کی’تسنیم‘ نیوز ایجنسی
ایرانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ممکنہ مفاہمت کے مسودے کے متن پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں فریقین نے باری باری ترامیم پیش کی ہیں لیکن اس وقت تک کسی بھی مفاہمت کو حتمی طور پر منظور نہیں کیا گیا۔
ایران کی’تسنیم‘ نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسی دوران مجلس شوریٰ کے سربراہ اور ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جس میں ایرانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد ضمانتیں شامل نہ ہوں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے اپنی شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔
لیکن وہ قابل اعتماد ضمانتیں کیا ہیں جن کا ایرانی فریق مطالبہ کر رہا ہے؟
شاید اس کا جواب ایرانی رکن پارلیمنٹ محمود نبویان کے اس بیان سے ملتا ہے جس میں انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے میں دونوں فریقین کی وابستگی کی ضمانت سلامتی کونسل کی قرارداد ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ ممکنہ فریم ورک مفاہمت کے مسودے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا ذکر کیا گیا ہے جس میں چین، روس اور پاکستان شامل ہوں گے۔

جبکہ دیگر ذرائع کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز مخالف فریق کی جانب سے اپنے عزم کو پورا کرنے کے لیے ایران کی سب سے اہم ضمانت ہے، یہ بات صبح نیوز ایجنسی نے بتائی۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اس تزویراتی اور اہم آبنائے کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں رہے گا اور اگر معاہدے کی پاسداری میں کوئی خلل پڑا تو تہران اس گزرگاہ میں بحری جہاز رانی کے انتظام پر نظرثانی کرے گا۔
گذشتہ دنوں امریکی حکام نے اشارہ دیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث کے لیے پیش کی گئی تجویز میں مزید سخت ترامیم شامل کی ہیں جس سے مذاکرات کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے، یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز نے شائع کی۔
واشنگٹن اور تہران کے مابین ان مذاکرات میں، جن کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ ہے جو گذشتہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی، ایٹمی فائل اور افزودہ شدہ یورینیم کو ایران کے اندر سے باہر منتقل کرنا سب سے نمایاں متنازع نکات میں سے ایک ہے۔
جہاں واشنگٹن تہران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتا ہے وہیں ایران اس کی سراسر تردید کرتا ہے اور اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس فائل پر زیر بحث مفاہمت پر دستخط کے بعد 60 دنوں یا اس کے لگ بھگ مدت کے دوران بعد میں بات کی جائے۔



