
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے افسوسناک واقعے پر عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اتوار کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کی جانب سے ہمدردی اور تعاون کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
صدر مملکت کا سوشل میڈیا بیان
صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا:
’’پاکستان عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی پر ممنون ہے۔ یہ پیغامات اس حقیقت کی توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی حمایت اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تنہا جنگ ممکن نہیں
صدر مملکت نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی ملک تنہا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا:
’’پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جب دہشت گرد گروہوں کو بیرونی مدد اور سہولت کاری حاصل ہو تو اس کے نتائج معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔‘‘
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس سرحدوں کے پابند نہیں اور ان کا مقابلہ صرف مشترکہ عالمی حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان مخالف سرگرمیوں کی اجازت دینے کا دعویٰ
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک بدقسمتی سے دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر اس جرم میں شریک ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق:
’’ان ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو نہ صرف مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری وسائل بھی مہیا کیے جاتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر گہری تشویش
صدر مملکت نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے ماحول سے مشابہ یا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
انہوں نے کہا:
’’اُس وقت بھی دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں، جن کا انجام 11 ستمبر کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔‘‘
صدر زرداری نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بن سکتا ہے۔
علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کا مؤقف
صدر مملکت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی معاونت کر کے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔
دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر زور
صدر آصف علی زرداری نے مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسلام آباد دہشت گردی واقعہ
واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کے روز پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں 32 شہری جاں بحق ہوئے تھے، جس پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے کے تانے بانے پڑوسی ملک افغانستان کی سرزمین اور بھارت کی مالی معاونت سے جڑے ہوئے ہیں۔
نتیجہ
صدر آصف علی زرداری کے حالیہ بیانات پاکستان کے اس واضح مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے جس کا مقابلہ صرف اجتماعی، سنجیدہ اور عملی اقدامات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے عناصر اور ریاستوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے۔



