
امریکی بحریہ کا نیا AESM پروگرام: فضائی جنگی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی
یہ ضرورت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین جنگ کے دوران روس کے دو Beriev A-50U طیارے مار گرائے گئے
مدثر احمد-امریکہ
امریکی بحریہ نے ایک جدید اینٹی ریڈی ایشن میزائل کے لیے باضابطہ طور پر نئی ضرورت جاری کر دی ہے، جو مستقبل کی ہائی ٹیک فضائی جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس نئے منصوبے کو ایڈوانسڈ ایمیشن سپریشن میزائل (AESM) کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو دبانا اور تباہ کرنا ہے — لیکن اس بار ہدف صرف زمینی ریڈار تنصیبات نہیں بلکہ فضائی ریڈار پلیٹ فارمز بھی ہوں گے۔
جدید جنگی ماحول کے تقاضے
امریکی بحریہ کے مطابق AESM کو ایسے "مقابلے والے ماحول” کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جہاں دشمن جدید الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں، طویل فاصلے کے ریڈار اور نیٹ ورکڈ فضائی دفاعی نظام سے لیس ہو۔ یہ میزائل درج ذیل لڑاکا طیاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا:
F/A-18 Hornet
EA-18G Growler
F-35 Lightning II
یہ منصوبہ Naval Air Systems Command (NAVAIR) کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس نے واضح کیا ہے کہ نیا میزائل موجودہ اینٹی ریڈی ایشن ہتھیاروں سے زیادہ طویل رینج اور بہتر کارکردگی فراہم کرے گا۔ بحریہ کو توقع ہے کہ دو سال کے اندر اس کی ابتدائی تیاری مکمل کر لی جائے گی، جبکہ سالانہ تقریباً 300 میزائلوں کی خریداری متوقع ہے۔
AARGM-ER سے مماثلت مگر نئی جہت
AESM کی بنیادی خصوصیات موجودہ AGM-88G AARGM-ER سے ملتی جلتی ہیں، جو پہلے ہی امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال ہے۔ تاہم نئے میزائل میں درج ذیل اضافی صلاحیتوں پر زور دیا گیا ہے:
زیادہ طویل اسٹینڈ آف رینج
جدید اور ابھرتے ہوئے ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت
وسیع فریکوئنسی کوریج کے ساتھ جدید اینٹی ریڈی ایشن سیکر
اوپن سسٹم آرکیٹیکچر
مضبوط ECCM (Electronic Counter-Countermeasures) صلاحیت
ECCM تقاضوں میں چاف، فلیئرز، جیمنگ اور اینٹی-ARM تکنیکوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت شامل ہے، تاکہ دشمن کی جانب سے میزائل کو گمراہ کرنے کی کوششوں کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔
فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی انقلابی صلاحیت
AESM کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی "ہوا سے ہوا اور زمین سے زمین” اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ میزائل نہ صرف زمینی ریڈار اسٹیشنوں بلکہ دشمن کے ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (AWACS) طیاروں کو بھی نشانہ بنا سکے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین اپنے AWACS بیڑے اور طویل فاصلے کے اینٹی ریڈی ایشن میزائل پروگرامز میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ بحرالکاہل میں ممکنہ تصادم کی صورت میں دشمن کے AEW&C طیاروں کو غیر فعال کرنا فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔
یوکرین جنگ سے حاصل شدہ اسباق
یہ ضرورت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین جنگ کے دوران روس کے دو Beriev A-50U طیارے مار گرائے گئے، جس سے روسی فضائی نگرانی کی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا۔ ان واقعات نے یہ ظاہر کیا کہ AWACS جیسے اعلیٰ قدر والے اثاثے اگر تباہ ہو جائیں تو پورے فضائی دفاعی نیٹ ورک میں خلا پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی فضائیہ نے اپنے پرانے E-3 Sentry طیاروں کو ریٹائر کرنے اور انہیں جدید E-7 Wedgetail سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عبوری طور پر E-2D Hawkeye طیاروں کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ نیٹو نے بھی Wedgetail پروگرام پر نظرثانی کی ہے۔
ماضی کی ناکامی اور موجودہ عزم
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بحریہ نے اس نوعیت کا منصوبہ شروع کیا ہو۔ 2013 میں “نیکسٹ جنریشن میزائل” پروگرام منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ جیو پولیٹیکل حالات، خاص طور پر چین کے ساتھ ممکنہ اسٹریٹجک مقابلہ، نے بحریہ کو ایک بار پھر جدید اینٹی ریڈی ایشن ہتھیاروں کی سمت پیش رفت پر مجبور کیا ہے۔
SEAD اور DEAD صلاحیتوں میں اضافہ
AESM پروگرام امریکی بحریہ کی Suppression of Enemy Air Defenses (SEAD) اور Destruction of Enemy Air Defenses (DEAD) صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ جدید فضائی دفاعی نظام، لمبی رینج کے ریڈار، اور نیٹ ورکڈ سینسرز کے دور میں ایسے ہتھیار ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں جو دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو ابتدائی مرحلے میں مفلوج کر سکیں۔
نتیجہ
AESM صرف ایک نیا میزائل نہیں بلکہ امریکی بحریہ کی فضائی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ پروگرام زمینی ریڈار کو نشانہ بنانے سے آگے بڑھ کر دشمن کے فضائی کمانڈ اور کنٹرول پلیٹ فارمز کو براہِ راست ہدف بنانے کی تیاری کا عکاس ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو مستقبل کے ممکنہ ہائی اینڈ تنازعات — خصوصاً بحرالکاہل کے خطے میں — فضائی طاقت کے توازن پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





