کالمزسید عاطف ندیم

سرحدی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز……..سید عاطف ندیم

موجودہ حالات میں بھی دوطرفہ تجارت اور سرحدی آمدورفت متاثر ہو چکی ہے، جس کے معاشی اثرات سرحدی آبادیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں

پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط افغان پالیسی ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ سوویت مداخلت کے بعد سے خطے میں اسٹریٹجک گہرائی، سرحدی تحفظ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ اشتراک کے تناظر میں تشکیل دی گئی حکمتِ عملی آج ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اسلام آباد اور کابل کے تعلقات شدید تناؤ، عسکری آمادگی اور سفارتی تعطل کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

حالیہ سرحدی جھڑپوں اور باہمی الزامات نے دونوں ہمسایہ ممالک کو ایک ایسی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے جسے مبصرین 1992 کے بعد سب سے سنگین تصادم قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل 1960 کی دہائی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھی تھی کہ سرحدی اور ٹرانزٹ تجارت معطل ہو گئی تھی۔ موجودہ حالات میں بھی دوطرفہ تجارت اور سرحدی آمدورفت متاثر ہو چکی ہے، جس کے معاشی اثرات سرحدی آبادیوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔

اسلام آباد کے ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق حالیہ بحران "تمام سفارتی ذرائع مکمل طور پر آزما لینے کے بعد” سامنے آیا۔ ان کے بقول، افغان طالبان حکومت کے ساتھ سینکڑوں ملاقاتیں کی گئیں، جن میں پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر واضح تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اکتوبر 2025 میں افغانستان کے اندر کی جانے والی کارروائیاں ایک واضح پیغام تھیں۔ اسلام آباد کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد افغان حکام کو یہ باور کرانا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ حکام کے مطابق، "ہم تقریباً چار ہزار جانیں کھو چکے ہیں۔ آخر کب تک تحمل کیا جائے؟”

ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان سے تحریری ضمانتوں کا مطالبہ کیا تھا تاکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔ تاہم کابل کی جانب سے مبینہ طور پر کسی بھی باضابطہ دستاویز پر دستخط سے گریز کیا گیا اور صرف زبانی یقین دہانیوں کی پیشکش کی گئی۔

قطر اور ترکی کی ثالثی کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ بعد ازاں سعودی عرب نے بھی اسلام آباد اور کابل کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی۔ ریاض کی جانب سے ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ بھی پیش کیا گیا، لیکن افغان قیادت نے اسے باضابطہ شکل دینے سے انکار کر دیا۔

ایک عہدیدار کے مطابق، "مسئلہ یہ ہے کہ افغان فریق مذاکرات تو کرنا چاہتا ہے، مگر عملدرآمد نہیں کرتا۔ اگر عملدرآمد نہ ہو تو بات چیت کا فائدہ کیا؟”

پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں مبینہ ٹی ٹی پی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد کابل نے الزام عائد کیا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں طالبان حکومت نے سرحدی پٹی میں اپنی افواج کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا۔

اسلام آباد میں پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال معمول کی سرحدی جھڑپوں سے آگے بڑھ چکی ہے۔ ایک اہلکار نے اسے "ایسکلیشن پلس” قرار دیا — یعنی محض شدت میں اضافہ نہیں بلکہ ایک نئی سطح کی کشیدگی۔

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریبی حلقوں سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر افغان حکومت کی پالیسی سے مطمئن نہیں۔ تاہم کابل کے اندرونی دھڑوں، خصوصاً حقانی نیٹ ورک سے وابستہ عناصر کو اس مسئلے پر زیادہ اثر و رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ماضی میں بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ سوویت دور میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت نے بھی سرحدی علاقوں میں راکٹ حملے کیے تھے، جنہیں اس وقت کی علاقائی کشیدگی کا تسلسل قرار دیا گیا تھا۔ آج کی صورتحال کو بعض تجزیہ کار اسی تاریخ کے تسلسل میں دیکھ رہے ہیں، تاہم موجودہ جغرافیائی اور سیاسی تناظر کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اسے اپنے مؤقف پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اخلاقی حمایت حاصل ہے۔ چین، ازبکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک افغانستان میں استحکام کو اپنے مفادات سے جوڑتے ہیں اور شدت پسندی کے پھیلاؤ پر تشویش رکھتے ہیں۔

دوسری جانب، طالبان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے مزید حملے کیے تو سخت جواب دیا جائے گا، حتیٰ کہ خودکش حملوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر اسے نشانہ بنایا گیا تو وہ نہ صرف عسکریت پسندوں بلکہ ان کی معاون تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

اسلام آباد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کابل میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا، لیکن وہ موجودہ صورتحال میں پسپائی اختیار کرنے کے موڈ میں بھی نہیں۔ سرحدی کشیدگی کے باعث نہ صرف عسکری خطرات بڑھ رہے ہیں بلکہ اقتصادی اور انسانی بحران کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق، اگر فوری طور پر کوئی بامعنی سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو یہ کشیدگی محدود سرحدی جھڑپوں سے آگے بڑھ کر وسیع تر تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے — جس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

فی الحال دونوں دارالحکومتوں میں سخت بیانات اور عسکری تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ سرحدی علاقوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سوال یہی ہے: کیا چار دہائیوں پر محیط افغان پالیسی واقعی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے، یا یہ خطہ ایک اور طویل اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button