یورپاہم خبریں

ایران پر اسرائیلی حملے کے پسِ پردہ بھارت کا مبینہ کردار: خطے کی سیاست میں نئی صف بندی؟

رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی عسکری افسر نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت اور اسرائیل کے قریبی دفاعی تعلقات کا ذکر کیا۔

رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے حالیہ تناظر میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس تناظر میں کچھ تجزیہ کاروں اور ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اسرائیل کی ایران مخالف حکمتِ عملی میں بھارت کا بھی بالواسطہ کردار ہوسکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسرائیلی مؤقف اور بھارتی تعلقات

رپورٹس کے مطابق ایک اسرائیلی عسکری افسر نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت اور اسرائیل کے قریبی دفاعی تعلقات کا ذکر کیا۔ اسرائیلی افسر نے بھارت کو ایک “اہم اسٹریٹجک پارٹنر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مضبوط تعاون موجود ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات میں غیر معمولی قربت آئی۔ 2017 میں مودی کے تاریخی دورۂ اسرائیل کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد دفاعی معاہدوں، مشترکہ مشقوں اور ٹیکنالوجی تعاون میں اضافہ ہوا۔

ایران اور بھارت: تاریخی تعلقات

دوسری جانب بھارت اور ایران کے تعلقات بھی تاریخی اور اقتصادی نوعیت کے رہے ہیں، خصوصاً توانائی اور چابہار بندرگاہ منصوبے کے حوالے سے۔ ایران طویل عرصے تک بھارت کو تیل فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ چابہار منصوبہ بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی “اسٹریٹجک خودمختاری” پر مبنی رہی ہے، جس کے تحت وہ بیک وقت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات استوار رکھتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بڑھتی قربت اور مغربی بلاک کے ساتھ ہم آہنگی، ایران کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

خطے میں ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر واقعی کسی بھی سطح پر بھارت اسرائیل کی ایران مخالف حکمت عملی میں شامل پایا گیا تو اس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • ایران اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری

  • توانائی اور تجارتی منصوبوں پر اثر

  • جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی صف بندیاں

  • پاکستان اور چین کے ساتھ علاقائی توازن میں تبدیلی

تاہم اس حوالے سے بھارت کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی ایران نے براہِ راست بھارت پر کوئی الزام عائد کیا ہے۔

سفارتی توازن یا دوغلی پالیسی؟

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی پالیسی کو “کثیر جہتی سفارتکاری” کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، جہاں وہ بیک وقت امریکا، اسرائیل، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ ناقدین اسے مفاد پرستی اور تضاد پر مبنی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ واضح ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات جنوبی ایشیا سمیت عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ آئندہ دنوں میں عالمی طاقتوں کا کردار اور سفارتی بیانات اس معاملے کی مزید وضاحت کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button