
پاکستان کی افغانستان کے خلاف کارروائی اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اہم بریفنگ: آپریشن غضب للحق کی تازہ صورتحال
پاکستان ہمیشہ سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے، تو اس کے خلاف کسی نہ کسی طرح کی کارروائی کرنا پڑتی ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد، پاکستان نے افغانستان کے خلاف آپریشن "غضب للحق” شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کے روز اسلام آباد میں اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے اس بات کا ٹھوس فیصلہ کیا کہ افغانستان سے مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد اب اس کے پاس آپریشن کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے افغانستان اور ایران کے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 سے افغانستان کی جانب سے مسلسل بارڈر کی خلاف ورزیاں کی جا رہی تھیں۔ پاکستان کی حکومت نے متعدد مرتبہ سفارتی ذرائع سے افغانستان سے بات چیت کی کوشش کی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے افغانستان بہت سی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ "ہمارے پاس افغانستان سے دہشت گردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے، تو اس کے خلاف کسی نہ کسی طرح کی کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "ہم نے افغانستان سے صرف ایک مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔”
اس کے علاوہ، وزیر خارجہ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ قطر کی جانب سے پاکستان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے وزیر دفاع کو افغانستان بھیجا، لیکن ان کوششوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
آپریشن "غضب للحق” کی تازہ صورتحال:
پاکستان کی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن "غضب للحق” کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 مارچ 2026 کی سہ پہر تک افغان طالبان رجیم کے 435 کارندے ہلاک اور 630 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس آپریشن کے دوران افغانستان کی 188 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور 31 پوسٹوں پر پاکستان نے قبضہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ پاکستان کی فضائیہ نے 51 اہم مقامات کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اس آپریشن میں پاکستان نے دشمن کی اہم عسکری قوتوں کو بڑی کامیابی سے نشانہ بنایا، جن میں 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ افغانستان میں جنگی حالات کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان نے امن کی کوششوں کو ترجیح دی تھی۔
افغانستان کے خلاف آپریشن کی حکمت عملی:
پاکستان کا یہ آپریشن اس بات کا غماز ہے کہ افغان سرحد پر ہونے والی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیش نظر پاکستان کو سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ "غضب للحق” آپریشن کے تحت پاکستان نے نہ صرف زمینی کارروائیاں کی ہیں بلکہ فضائی حملے بھی کیے ہیں تاکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور افغان طالبان کی حکومت کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت میں اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا۔
پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں:
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بریفنگ میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ سفارتکاری کو ترجیح دی ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن افغانستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کی حمایت اور سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد پاکستان نے آپریشن "غضب للحق” شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت نے افغانستان سے بار بار درخواست کی کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، لیکن ان کی حکومت کی جانب سے ان درخواستوں کا کوئی جواب نہیں آیا۔
پاکستان کے آئندہ اقدامات:
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور اگر افغانستان نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہ کی، تو پاکستان کو مزید سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور افغان طالبان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو بے نقاب کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری سے توقع کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی حمایت کرے گی۔
افغانستان کی جانب سے ردعمل:
افغان طالبان حکومت کی جانب سے ابھی تک اس آپریشن پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مقامی افغان ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے اس اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ افغانستان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کا الزام تراشی کے بجائے، اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
نتیجہ:
پاکستان کی جانب سے "غضب للحق” آپریشن کا آغاز افغانستان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور خلاف ورزیوں کے پیش نظر ایک اہم فیصلہ ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے پاکستان نے افغانستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ تاہم، اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر پڑے گا اور اس کے عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرے، مگر دہشت گردی اور سرحدی خلاف ورزیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اس کے لیے حالات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔



