
ایجنسیاں
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی جرمنی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ مختلف علاقوں میں پریمیم پٹرول کی قیمت 2.50 یورو فی لٹر تک جا پہنچی جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت بھی دو یورو سے تجاوز کر چکی ہے جو جنگ سے قبل کی قیمت سے 30 سینٹ زیادہ ہے۔
ایران کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی گیس تنصیبات بھی بند ہو گئی ہیں جس سے عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ جرمنی براہ راست قطر سے ایل این جی نہیں خریدتا، تاہم یورپی مارکیٹوں میں قیمتیں بین الاقوامی سپلائی اور ڈیمانڈ کے توازن سے طے ہوتی ہیں۔ چونکہ اب اس توازن میں بگاڑ پیدا ہوچکا ہے، اس لیے جرمنی پر بھی اس کے اثرات واضح دکھائی دے رہے ہیں۔
چانسلر میرس کی حکومت کے لیے بڑا دھچکا
ایران میں جاری تنازعے نے جرمنی کو ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ عالمی بحرانوںکے دوران مضبوط معیشتیں بھی کمزور پڑ سکتی ہیں۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مشیران میں سے ایک پروفیسر ویرونیکا گِرم کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور سرمایہ کاری میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق،”ہمیں طویل مدت تک جاری رہنے والی غیر یقینی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘‘

جرمنی میں گزشتہ دس ماہ سے دونوں یونین جماعتوں (سی ڈی یو اور سی ایس یو) اور ایس پی ڈی (سوشل ڈیموکریٹک پارٹی) کی مخلوط حکومت قائم ہے۔ چانسلر فریڈرش میرس نے انتخابی مہم کے دوران معیشت کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا مگر اب تک اس معاملے میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔ سال 2026 کے آغاز پر جو معمولی بہتری دکھائی دی تھی، وہ بھی اب ایران جنگ کے باعث خطرے میں پڑ چکی ہے۔
معیشت کے لیے مہلک صورتحال
2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے جرمنی میں توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔ اب قیمتوں میں مزید اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال جرمن معیشت کے لیے مہلک ثابت ہو رہی ہے۔
پروفیسر گِرم کا کہنا ہے کہ یورپ کو توانائی کی سپلائی کو زیادہ مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم روسی گیس کی سپلائی میں بندش کے چار سال بعد بھی اب تک کوئی خاطر خواہ پالیسی نفاذ نظر نہیں آتا۔
ٹرانسپورٹ اور فضائی سفر پر اثرات
توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ ایران میں جاری جنگ نے شپنگ انڈسٹری کے لیے بھی مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ جرمن بحری جہازوں کو اب خلیج فارس کا چکر کاٹ کر طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے عالمی سپلائی چین میں تاخیر ہونے کے ساتھ ساتھ لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک کی فضائی حدود جزوی طور پر بند ہیں جس کے باعث فضائی سفر کے لیے ائیر لائنز کو طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ نتیجتاً سفر کا دورانیہ اور ایندھن پر لاگت دونوں ہی بڑھ رہے ہیں۔
اگرچہ برلن حکومت تازہ ترین صورتحال سے آگاہ ہے مگر اس کا ردعمل ابھی تک بہت محتاط ہے۔ اب تک کے حکومتی اقدامات میں صرف وزیر معیشت و توانائی کاتھرینا رائشے نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لیتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین کی سکیورٹی اور کاروباری اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس اعلان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ایندھن کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھاری رقوم بطور ٹیکس حاصل ہو رہی ہیں۔ پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی رقم کا تقریباً نصف حصہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں ریاست ہی کے پاس جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت اس صورتحال سے منافع کما رہی ہے۔



