کاروبار

پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی تعاون اور فوڈ سیکیورٹی پارٹنرشپ بڑھانے پر اتفاق

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنانے اور قطری مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان اور قطر نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کے شعبے میں شراکت داری بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارتی امور ڈاکٹر احمد بن محمد السید کے درمیان ایک اہم ورچوئل ملاقات منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط کو وسعت دینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے درمیان دوستانہ تعلقات اور بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کو تیز کیا جائے۔

قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارتی امور ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست روابط کو بڑھانا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور قطر کے نجی شعبے کو قریب لانے سے باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

قطر کو پاکستانی چاول کی برآمدات میں اضافہ

گفتگو کے دوران پاکستان کی جانب سے قطر کو چاول اور دیگر غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ قطری وزیر نے کہا کہ چاول قطر کے غذائی تحفظ پروگرام اور قومی خوراک کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے اور قطر پاکستان سے اس کی درآمدات میں اضافہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنانے اور قطری مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو مسابقتی بنانے اور سپلائی کے بہتر انتظامات کے لیے نئے میکنزم متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ قیمتوں اور فراہمی کے معاملات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ متعلقہ ادارے پاکستانی برآمد کنندگان اور قطری درآمد کنندگان کے درمیان براہ راست رابطوں کو فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون کریں گے تاکہ تجارت میں آسانی پیدا ہو۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع

فوڈ سپلائی تعاون کے علاوہ ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ خاص طور پر انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

اس دوران کراچی بندرگاہ کی توسیع اور دیگر اسٹریٹجک منصوبوں کو تعاون کے ممکنہ شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ قطری فریق نے پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی مشترکہ تجاویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ متعلقہ ادارے، جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (QIA) بھی شامل ہے، ان تجاویز کا جائزہ لیں گے۔

علاقائی صورتحال پر تشویش

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی تشویش کا اظہار کیا اور قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔

جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان علاقائی استحکام، سفارتی مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے دوست ممالک اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

قطر کے لیے پاکستان کی حمایت

وفاقی وزیر تجارت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل حالات میں اپنے برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوڈ سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور ضروری اشیاء کی فراہمی میں قطر کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

مشترکہ ٹاسک فورس کو فعال بنانے کا فیصلہ

ملاقات کے اختتام پر دونوں وزراء نے پاکستان قطر اقتصادی تعاون کو مزید تیز کرنے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد سرمایہ کاری کے منصوبوں کا جائزہ لینا، دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا ہوگا۔

یہ بھی طے پایا کہ مشترکہ ٹاسک فورس جلد ہی ایک ورچوئل اجلاس منعقد کرے گی جس میں مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اقتصادی تعاون کے لیے عملی اقدامات پر پیش رفت کی جائے گی۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے رمضان المبارک کے بقیہ ایام اور آنے والی بابرکت راتوں کے لیے ایک دوسرے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا اور پاکستان اور قطر کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button