
روئٹرز کے ساتھ
اس پس منظر میں پاکستانی حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے نمائندوں کے مابین بدھ 11 مارچ کو جو مذاکرات ہوئے، ان کا مقصد اس ادارے کے اسلام آبا دکے لیے بیل آؤٹ پروگرام کے تازہ ترین جائزے میں اب تک ہونے والی ترقی کا جائزہ لینا تھا۔
آئی ایم ایف کی طرف سے اس بات چیت کے بعد کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں ‘قابل ذکر‘ پیش رفت تو ہوئی ہے، تاہم دونوں فریق تاحال کسی سٹاف لیول معاہدے تک نہیں پہنچے۔
اس مکالمت میں اس حوالے سے بھی مشاورت کی گئی کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ کے پاکستانی معیشت پر اثرات کتنے شدید ہو سکتے ہیں۔

مشاورت آئندہ دنوں میں جاری رہے گی
ان مذاکرات کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی مشن چیف ایوا پیٹرووا کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ”پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قابل ذکر پیش رفت تو ہوئی ہے، تاہم اس سلسلے میں مشاورت آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی۔‘‘
ایوا پیٹرووا نے مشن کے اختتام پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا، ”آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام آئندہ دنوں میں اپنی بات چیت اس لیے جاری رکھیں گے کہ (بیل آؤٹ پروگرام پر عمل درآمد سے متعلق) جائزوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔‘‘
پاکستان سے ملنے والی رپورٹوں میں ملکی حکومت کی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جن امور پر خاص طور پر توجہ مرکوز رکھی گئی، ان میں مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازعے کے پاکستان میں توانائی کی قیمتوں پر اثرات، پاکستان کی طرف سے ادائیگیوں کا توازن اور بیرونی مالیاتی ضروریات نمایاں تھے، بالخصوص اس پہلو سے کہ یہ ملک اپنی ضرورت کا زیادہ تر ایندھن درآمد کرتا ہے۔

بیل آؤٹ پروگرام اور توسیعی فنڈ کی سہولت
آئی ایم ایف کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے مالیاتی پروگرام میں سات بلین ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت یا EFF پرعمل درآمد گزشتہ ماہ کے آخر تک زیادہ تر پاکستان کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہی رہا۔
ساتھ ہی آئی ایم ایف کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن شعبوں پر زیادہ تر توجہ مرکوز رہی، ان میں مالیاتی استحکام، سخت مالیاتی پالیسی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات نمایاں ہیں۔
پاکستانی حکومت کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس بات چیت کے دو بڑے مقاصد 37 ماہ کے عرصے پر محیط توسیعی فنڈ سہولت کا تیسرا جائزہ اور 28 ماہ پر محیط Resilience and Sustainability Facility کا دوسرا جائزہ لینا تھے۔



