پاکستاناہم خبریں

کنڑ حملوں سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد قرار، پاکستان کا دوٹوک مؤقف،دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ثبوت اور شفافیت کے ساتھ ہوں گی

حکام نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پاکستان بلاجواز سرحد پار کارروائیاں کرتا ہے، اور کہا کہ جب بھی کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے ٹھوس شواہد، انٹیلی جنس معلومات اور پیشگی حکمت عملی موجود ہوتی ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی
کنڑ میں مبینہ حملوں سے متعلق افغان میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے جاری بیانیے کو پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہر کارروائی بین الاقوامی قوانین اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے مطابق کی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت ہونے والی کارروائیاں مخصوص اور مصدقہ اہداف تک محدود ہوتی ہیں، جن کا تعلق دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے سے ہوتا ہے۔
حکام نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پاکستان بلاجواز سرحد پار کارروائیاں کرتا ہے، اور کہا کہ جب بھی کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے ٹھوس شواہد، انٹیلی جنس معلومات اور پیشگی حکمت عملی موجود ہوتی ہے۔ مزید برآں، ایسے اقدامات شفافیت کے اصولوں کے تحت کیے جاتے ہیں اور ان کی ذمہ داری بھی واضح طور پر قبول کی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں کنڑ سے متعلق بعض دعوؤں میں تضادات پائے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معلومات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر انحصار کرنے کے بجائے حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور الزام تراشی کے بجائے تعاون کی راہ اپنائیں۔ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ملک دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں معلوماتی جنگ (Information Warfare) بھی ایک اہم محاذ بن چکی ہے، جہاں بیانیے کی جنگ کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں ذمہ دارانہ صحافت اور مصدقہ معلومات کی فراہمی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
آخر میں حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ہر قدم پر قومی مفادات، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button