
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان اور امریکہ کے درمیان میزائل پروگرام سے متعلق بیانات اور خدشات نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک جانب پاکستان کا دفتر خارجہ نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو مکمل طور پر دفاعی قرار دیا ہے، تو دوسری جانب امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
امریکی رپورٹ اور خدشات
امریکی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے سالانہ "تھریٹ اسیسمنٹ” رپورٹ میں پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا جو مستقبل میں امریکہ کے لیے سکیورٹی چیلنج بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے سسٹمز تیار ہو جائیں جو امریکی سرزمین کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
رپورٹ میں روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان کو جدید میزائل پروگرامز کے حوالے سے خاص طور پر نمایاں کیا گیا۔
پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ:
پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی سطح سے کافی نیچے ہے
اس کا مقصد صرف "کم از کم قابلِ اعتبار ڈیٹرنس” (Minimum Credible Deterrence) ہے
بنیادی ہدف انڈیا کے ساتھ تزویراتی توازن برقرار رکھنا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں قومی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہیں، نہ کہ کسی عالمی طاقت کے خلاف۔
انڈیا کا میزائل پروگرام بطور تقابل
پاکستانی مؤقف میں بارہا انڈیا کے میزائل پروگرام کو بطور حوالہ پیش کیا گیا۔ پاکستان کے مطابق:
انڈیا کے پاس 12 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں
وہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے
ایٹمی آبدوزوں کے ذریعے بھی حملے کی صلاحیت رکھتا ہے
یہ پہلو پاکستان کے مطابق خطے میں عدم توازن کا سبب بن رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے: تکنیکی و تزویراتی پہلو
اسلام آباد میں دفاعی تجزیہ کار سید محمد علی کے مطابق امریکی خدشات "تکنیکی حقائق کے خلاف” ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
پاکستان کی میزائل ترقی کا مقصد انڈیا کے میزائل ڈیفنس سسٹم کا توڑ ہے
اس میں جدید ٹیکنالوجی جیسے MIRV (Multiple Independently targetable Reentry Vehicles) شامل ہے
مثال کے طور پر ابابیل میزائل ایک ہی وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے
اسی طرح کینبرا کی آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ڈاکٹر منصور احمد کہتے ہیں کہ:
کسی میزائل کی صلاحیت کا تعین اس کے عملی تجربات سے ہوتا ہے
پاکستان نے اب تک ایسا کوئی میزائل ٹیسٹ نہیں کیا جو انڈیا سے باہر کی رینج رکھتا ہو
اہم پاکستانی میزائل سسٹمز
پاکستان کے میزائل پروگرام میں خاص طور پر درج ذیل سسٹمز نمایاں ہیں:
شاہین تھری — تقریباً 2750 کلومیٹر رینج
ابابیل میزائل — 2200 کلومیٹر رینج، MIRV صلاحیت کے ساتھ
ماہرین کے مطابق ابابیل جنوبی ایشیا کا پہلا MIRV میزائل ہے جو بیک وقت متعدد وار ہیڈز لے جا سکتا ہے۔
امریکی پابندیاں اور تنازع
امریکہ نے 2024 میں پاکستان کے میزائل پروگرام سے منسلک اداروں پر پابندیاں بھی عائد کیں، جن میں:
نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس
دیگر نجی کمپنیاں شامل ہیں
امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہیں، جبکہ پاکستان نے ان پابندیوں کو "متعصبانہ” اور "مایوس کن” قرار دیا۔
جیوپولیٹیکل تناظر
ماہرین کے مطابق اس تنازع کے پس منظر میں عالمی سیاست بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے:
امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی
انڈیا کا کواڈ اتحاد میں کردار
جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن
پاکستانی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی پالیسی میں انڈیا کا بڑھتا اثر و رسوخ بھی ان خدشات کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
پاکستان اور امریکہ کے درمیان میزائل پروگرام پر اختلافات محض تکنیکی نہیں بلکہ تزویراتی، سیاسی اور جغرافیائی عوامل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اپنے پروگرام کو دفاعی اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے مستقبل کے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سلامتی کے منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جہاں توازنِ قوت اور ڈیٹرنس کی پالیسی مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔



