پاکستاناہم خبریں

سنگاپور اور تھائی لینڈ کے تعاون سے 11 پاکستانیوں اور 20 ایرانی شہریوں کی کامیاب وطن واپسی، پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں

ایرانی شہریوں کو بھی پاکستان کے ذریعے اپنے وطن واپس جانے میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی فعال اور مؤثر سفارت کاری کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد کو بلند سم

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان نے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلند سمندر میں امریکی حکام کی جانب سے پکڑے گئے جہازوں پر سوار 11 پاکستانی شہریوں اور 20 ایرانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی ممکن بنا دی۔ حکومتی سطح پر جاری مربوط سفارتی کوششوں، بین الاقوامی تعاون اور مختلف ممالک کے درمیان مسلسل رابطوں کے بعد تمام افراد کو سنگاپور اور بنکاک کے راستے بحفاظت اپنے وطن واپس لانے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔
اعلیٰ حکومتی ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی اور ایرانی شہری اچھی صحت اور بلند حوصلے میں ہیں۔ ان افراد کو پہلے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں ضروری سفری اور قانونی کارروائیاں مکمل کی گئیں، بعد ازاں انہیں بنکاک پہنچایا گیا، جہاں سے پاکستانی شہریوں کی اسلام آباد واپسی کے لیے خصوصی سفری انتظامات کیے گئے۔
حکام کے مطابق تمام پاکستانی شہری اسلام آباد آنے والی پرواز میں سوار ہو چکے ہیں اور ان کی وطن واپسی آج رات متوقع ہے، جبکہ ایرانی شہریوں کو بھی پاکستان کے ذریعے اپنے وطن واپس جانے میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی فعال اور مؤثر سفارت کاری کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان افراد کو بلند سمندر میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب امریکی حکام نے بعض بحری جہازوں کو روک کر ان کی جانچ پڑتال کی۔ بعد ازاں مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پاکستان، ایران، امریکہ، سنگاپور اور تھائی لینڈ کے درمیان مسلسل رابطے جاری رہے۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ ایرانی شہریوں کی واپسی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مشکل حالات میں ان کی معاونت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور مختلف پاکستانی سفارتی مشنز نے اس پورے عمل کے دوران مسلسل رابطہ کاری جاری رکھی تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔
پاکستانی حکام نے اس کامیاب آپریشن میں تعاون کرنے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ خاص طور پر سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا، سنگاپور کی حکومت اور وزیراعظم کی معاونت کو سراہا گیا، جنہوں نے اس پورے عمل میں مسلسل تعاون اور مثبت کردار ادا کیا۔ حکام کے مطابق سنگاپور نے نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت فراہم کی بلکہ سفری انتظامات اور عارضی سہولیات کی فراہمی میں بھی بھرپور تعاون کیا۔
اسی طرح ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے ایرانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھی اس معاملے میں تعاون کیا اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سطح پر رابطوں کے بعد پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی محفوظ منتقلی کے لیے سہولت فراہم کی گئی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ معاملہ مکمل طور پر انسانی بنیادوں پر حل کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے درمیان قریبی سفارتی رابطہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔
تھائی لینڈ کی حکومت کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا گیا، جس نے بنکاک کے راستے ان افراد کی محفوظ ٹرانزٹ سہولت کو یقینی بنایا۔ پاکستانی حکام کے مطابق تھائی حکام نے فوری انتظامات کر کے سفری عمل کو آسان بنایا اور تمام شہریوں کو محفوظ انداز میں اپنی اگلی منزل تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔
وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق سنگاپور اور تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارتی مشنز نے دن رات کام کرتے ہوئے اس پورے عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سفارتی عملے نے متعلقہ ممالک کے حکام سے مسلسل رابطہ رکھا، قانونی تقاضے پورے کیے اور متاثرہ افراد کو ضروری معاونت فراہم کی۔
سیاسی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی فعال سفارت کاری اور علاقائی تعلقات کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات میں متعدد ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور فوری رابطہ کاری انتہائی اہم ہوتی ہے، اور پاکستان نے اس معاملے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر مؤثر کردار ادا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات، سمندری راستوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کے تناظر میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ اور بروقت سفارتی اقدامات مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہیں۔
ادھر وطن واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ نے حکومت پاکستان، وزارت خارجہ اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں حکومتی اداروں نے جس تیزی اور سنجیدگی سے اقدامات کیے وہ قابلِ ستائش ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ کامیاب سفارتی کوشش نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ خطے میں انسانی ہمدردی، تعاون اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی کی ایک مثبت مثال کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button