پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے پُرامن حل کیلئے پاکستان پرامید، پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں: محسن نقوی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ روابط باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے دیرپا اور پُرامن حل کے لیے پرامید ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بات امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور پال کپور سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں پاک امریکہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ اہم ملاقات اسلام آباد میں ہوئی، جس میں قائم مقام امریکی سفیر نٹالی بیکر، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ سمیت اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات اور سرحدی تعاون کے شعبوں میں اشتراک کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ روابط باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
محسن نقوی نے اس موقع پر بلوچستان میں جاری اہم اقتصادی منصوبے ریکوڈک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ منصوبے میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں اور غیر ملکی عملے کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کیلئے مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہِ راست پروازوں کا جلد آغاز دونوں ممالک کے عوام اور کاروباری حلقوں کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق براہِ راست فضائی رابطے نہ صرف تجارتی اور سفارتی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے بلکہ عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں بھی مددگار ہوں گے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں جنگ، کشیدگی اور عدم استحکام کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مشرق وسطیٰ کا امن نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی استحکام کیلئے بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پُرامن حل اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ پال کپور نے اس موقع پر خطے میں امن و استحکام کے قیام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور علاقائی امن کیلئے اس کے تعاون کو اہم قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے سکیورٹی تعاون اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان کے تجربے اور کردار کی تعریف بھی کی۔
ملاقات میں انسداد منشیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ ایک بین الاقوامی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اور انٹیلی جنس تعاون ضروری ہے۔ حکام کے مطابق سرحدی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ تربیتی پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی توانائی بحران اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال نے عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کو نئی سفارتی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان اس صورتحال میں متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی امن کے مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی سطح پر لے جانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی، معیشت، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کے معاملات دونوں ممالک کیلئے مشترکہ اہمیت رکھتے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات موجود ہیں۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی پاکستان کیلئے مثبت معاشی اشارہ ہے۔ ان کے مطابق اگر سکیورٹی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنایا گیا تو پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک اہم مارکیٹ بن سکتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سفارتی پیش رفت مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات میں مزید بہتری اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button