
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ٹیکنالوجی تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چینی ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاو جون کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں بسنے والی لازوال دوستی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کو اپنا انتہائی قابلِ اعتماد دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کیا بلکہ ٹیکنالوجی، صنعت، انفراسٹرکچر اور جدید تحقیق کے میدان میں بھی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اپنے متوقع دورۂ چین کے منتظر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے آئی بی آئی گروپ کے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گا بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بھی پیدا کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حکومت سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ پاکستانی نوجوان جدید ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ اور ای کامرس کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتا ہوا تعاون اس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی ترقی اور خطے میں خوشحالی کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی بی آئی گروپ کی پاکستان میں موجودگی نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں نئی راہیں کھولے گی بلکہ صنعتی اشتراک، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ منصوبہ سازی کو بھی تقویت دے گی۔
دوسری جانب آئی بی آئی گروپ کے سربراہ چیان شیاو جون نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں نوجوان آبادی، ٹیکنالوجی کے بڑھتے رجحان اور حکومتی تعاون کی وجہ سے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
چیان شیاو جون نے کہا کہ آئی بی آئی گروپ پاکستان کی ڈیجیٹل اصلاحات میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کا قیام نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود کاروباری اور صنعتی صلاحیت کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جوڑ کر عالمی منڈیوں تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوگا جبکہ مقامی صنعتوں کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع ملے گا۔
چینی وفد نے پاکستان میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل فنانس، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور صنعتی آٹومیشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک اہم اقتصادی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری منصوبے اس وژن کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، نوجوانوں کی ٹیکنالوجی تربیت، مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں اور اسٹارٹ اپ کلچر کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔ حکومت پاکستان نے چینی کمپنیوں کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔
یہ وفد وزیراعظم شہباز شریف کے ستمبر 2025 میں دورۂ بیجنگ کے دوران منعقد ہونے والی پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان آیا ہے۔ اس کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر متعدد معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں زیر غور آئی تھیں۔
ملاقات میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر کے قیام سے نہ صرف ٹیکنالوجی سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری آئے گی بلکہ پاکستان کی برآمدی صنعت، ای کامرس مارکیٹ، فری لانسنگ سیکٹر اور ڈیجیٹل سروسز کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں دلچسپی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت میں بڑھتے ہوئے استحکام اور مستقبل کے امکانات کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا ٹیکنالوجی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں ڈیجیٹل ترقی، جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔



