
پاکستان: ٹی بی کے خاتمے کے لیے حکومتی عزم، عوامی آگاہی اور مفت علاج کے اقدامات تیز ، وزیراعلیٰ پنجاب
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے بھر میں ٹی بی کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں جدید سہولیات کے تحت مفت تشخیصی خدمات بھی دستیاب ہیں
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
صوبہ پنجاب میں تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کے لیے حکومت نے اپنی کوششیں مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مریم نواز شریف نے ٹی بی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ اس موذی مرض کے خلاف جنگ جیتنا ایک صحت مند اور مضبوط پنجاب کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب ٹی بی کے مکمل خاتمے کے لیے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہی ہے، جن میں بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور عوامی آگاہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مرض کی جلد تشخیص ہو جائے اور مریض باقاعدگی سے علاج جاری رکھے تو نہ صرف اس کی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے بھر میں ٹی بی کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں جدید سہولیات کے تحت مفت تشخیصی خدمات بھی دستیاب ہیں۔ ان میں پی سی آر ٹیسٹ، ایکسرے اور دیگر ضروری طبی معائنے شامل ہیں تاکہ مرض کی بروقت اور درست تشخیص ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا ایک اہم پروگرام مریضوں تک گھر کی دہلیز پر مفت ادویات کی فراہمی ہے، جو نہ صرف ٹی بی بلکہ ہیپاٹائٹس اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے بھی جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کو علاج تک آسان رسائی فراہم کرنا اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
مریم نواز شریف نے مزید بتایا کہ صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں DOTS پروگرام کے تحت ٹی بی کا مکمل اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے مریضوں کو باقاعدہ نگرانی میں ادویات دی جاتی ہیں تاکہ علاج ادھورا نہ چھوڑا جائے، جو کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے گھر گھر جا کر مریضوں کی تلاش، ان کی سکریننگ اور رہنمائی کا عمل بھی جاری ہے، جس سے نہ صرف نئے کیسز کی بروقت نشاندہی ہو رہی ہے بلکہ عوام میں شعور بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی کے مریضوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں جدید طریقہ علاج اور خصوصی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی بی کے خاتمے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ اس میں معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی، تحقیقاتی ادارے اور نجی طبی شعبہ اس جدوجہد میں حکومت کے شراکت دار ہیں۔
انہوں نے عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں، تاہم بروقت تشخیص، مکمل علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس مرض کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹی بی کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں، علاج کو ادھورا نہ چھوڑیں اور اس بیماری کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کا ساتھ دیں، تاکہ ایک صحت مند، محفوظ اور بیماریوں سے پاک پنجاب کا خواب حقیقت بن سکے۔



