
ڈی پی اے اور اے ایف پی کے ساتھ
برلن کی ایک عدالت نے ان ملزمان کو حماس کی رکنیت اور ہتھیاروں کی خریداری کے الزامات ثابت ہو جانے پر ساڑھے چار سال سے لے کر چھ سال تک قید کی سزاؤں کا حکم سنایا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ان افراد کے خلاف عائد کردہ یہ الزامات ثابت ہو گئے تھے کہ وہ ”غیر ملکی کارندوں‘‘ کے طور پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے لیے پولینڈ، بلغاریہ اور ڈنمارک سمیت یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری کے مرتکب ہوئے تھے۔

یورپ میں ہتھیاروں کی ذخیرہ گاہ کا قیام
اس مقدمے میں چاروں ملزمان کو ان الزامات کا سامنا تھا کہ انہوں نے حماس کے ارکان کے طور پر یورپ میں کافی تعداد میں ہتھیاروں کی ایک ایسی غیر قانونی اور زیر زمین ذخیرہ گاہ قائم کی، جسے وہ بعد میں ممکنہ طور پر اور ایک لمبے عرصے کے دوران یورپی ممالک میں اسرائیل کے مفادات اور یہودی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔
استغاثہ نے ملزمان پر جو فرد جرم عائد کی تھی، اس میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے اہداف کے طور پر برلن میں اسرائیلی سفارت خانے کا نام بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ یہ ملزمان جرمنی میں رامشٹائن کے فوجی اڈے پر بھی حملہ کرنا چاہتے تھے، جسے امریکہ کی فوج اور فضائیہ استعمال کرتی ہیں۔
ساتھ ہی ایسے ممکنہ حملوں کے مقام کے طور پر برلن کے ہوائی اڈے ٹیمپل ہوف کے ارد گرد کے علاقے کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ برلن کا ٹیمپل ہوف ایئر پورٹ اب متروک ہے اور فضائی سفر کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔

ملزمان کی قومیتیں
ان چاروں ملزمان کو دسمبر 2023ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو پیدائشی طور پر لبنانی ہیں اور تیسرا ایک مصری شہری جبکہ چوتھے کے پاس نیدرلینڈزکی شہریت ہے۔
استغاثہ نے اس مقدمے میں عدالت سے ملزمان کے لیے پانچ سے لے کر سات سال تک قید کی سزاؤں کی درخواست کی تھی، لیکن عدالت نے ان سزاؤں کا دورانیہ ساڑھے چار سال سے لے کر چھ سال تک رکھا۔
اس مقدمے میں باقاعدہ عدالتی سماعت ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے شروع ہوئی تھی، جس کی تکمیل پر عدالت کی سربراہی کرنے والی خاتون جج نے کہا کہ پیش کیے گئے شواہد اس بات کے یقینی تعین کے لیے کافی سے بھی زیادہ تھے کہ ان چاروں حماس ارکان کے خلاف لگائے گئے مجرمانہ الزامات درست تھے۔


