پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

سندھ محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر تبادلے: “نئے سسٹم” کی شروعات یا پرانی کہانی کا نیا باب؟

سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کے مطابق ریحان اقبال بلوچ کو ایک مضبوط اور کسی حد تک مطلق العنان منتظم سمجھا جاتا تھا

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
سندھ میں نئے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کی تعیناتی کے بعد محکمہ صحت میں وسیع پیمانے پر تبادلوں اور تقرریوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس نے صوبے کے صحت کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اہم عہدوں پر نئی تعیناتیوں، چیف ڈرگ انسپکٹر سمیت کلیدی پوسٹوں پر تبدیلیوں، بڑے سرکاری اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ایچ اوز) کی اکھاڑ پچھاڑ کے ساتھ ساتھ سیکرٹریٹ کی سطح پر سیکشن افسران کی تبدیلی نے ایک “نئے سسٹم” کی بحث کو جنم دیا ہے۔ سرکاری حلقوں میں اس تیزی سے ہونے والی ردوبدل کو ایک بڑی انتظامی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ اقدامات مثبت نتائج دیں گے یا نہیں، کیونکہ اصل صورتحال آنے والے مہینوں میں ہی واضح ہو سکے گی۔

ان تبدیلیوں کے پس منظر میں سابق سیکرٹری صحت ریحان اقبال بلوچ کے دور کا بھی تفصیلی تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کے مطابق ریحان اقبال بلوچ کو ایک مضبوط اور کسی حد تک مطلق العنان منتظم سمجھا جاتا تھا، جنہوں نے اپنے دور میں فیصلوں میں ذاتی صوابدید کو نمایاں اہمیت دی اور افسران کی تعیناتیاں زیادہ تر اپنی رائے کے مطابق کیں۔ ان کے بارے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا رہا کہ وہ کسی کی رائے کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے تھے، تاہم ان کے حوالے سے ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر کبھی رشوت طلب نہیں کی اور نہ ہی تعیناتیوں کو مالی مفادات سے مشروط کیا، بلکہ سفارش کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی۔

تاہم ناقدین کے مطابق ان کے دور کی سب سے بڑی کمزوری مؤثر نگرانی یعنی چیک اینڈ بیلنس کا فقدان تھا۔ ریحان اقبال بلوچ کا مؤقف تھا کہ کسی بھی افسر کو بہتر کارکردگی کے لیے طویل عرصہ ایک ہی پوسٹ پر تعینات رہنا چاہیے، اور اسی پالیسی کے تحت متعدد افسران کو اہم عہدوں پر برقرار رکھا گیا۔ اگرچہ اس پالیسی کو انتظامی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا گیا، لیکن مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث اس کے منفی اثرات بھی سامنے آئے۔ متعدد اسپتالوں، ڈی ایچ او دفاتر، صحت پروگرامز اور سیکرٹریٹ میں تعینات افسران پر بدعنوانی، وسائل کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے، جنہوں نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کیا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کے استعمال، ادویات کی فراہمی، مریضوں کی خوراک (ڈائٹ) اور مجموعی سروس ڈیلیوری کے معاملات پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈی ایچ اوز اور پروگرام ڈائریکٹرز سمیت بعض افسران پر بجٹ میں بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے، لیکن ان الزامات کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔ اس صورتحال کے باعث محکمہ صحت کا احتسابی نظام عملاً مفلوج ہو کر رہ گیا، جبکہ ہنگامی دوروں اور زمینی حقائق کی جانچ کے فقدان نے بھی انتظامی کمزوریوں کو مزید گہرا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں تعینات کیے گئے متعدد افسران کو اب ان کے تبادلے کے بعد عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں نئے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کی جانب سے تیزی سے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، جس پر مختلف حلقوں کی آراء منقسم ہیں۔ بعض سرکاری اور ماہرین حلقے ان اقدامات کو بہتری کی جانب ایک سنجیدہ کوشش قرار دے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایسی بڑی تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ ان کے مطابق پرانے اور مبینہ طور پر غیر مؤثر افسران کو ہٹانا اور نئی ٹیم کو سامنے لانا کارکردگی میں بہتری لا سکتا ہے۔

دوسری جانب کچھ حلقے ان تیز رفتار تبدیلیوں پر خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اتنی بڑی سطح پر تبادلے انتظامی عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا نئی تعیناتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ بعض مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کہیں یہ اقدامات کسی دباؤ یا مالی اثر و رسوخ کے تحت تو نہیں ہو رہے، یا واقعی یہ ایک جامع اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت “نئے سسٹم” کی اصطلاح زیادہ تر ایک تاثر ہے، جس کی حقیقت کا تعین آنے والے وقت میں ہوگا۔ کسی بھی بڑے انتظامی اقدام کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا موجودہ تبدیلیاں دیرپا اصلاحات کا باعث بنیں گی یا ماضی کی کمزوریوں کو کسی نئے انداز میں دہرا دیں گی۔

تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ محکمہ صحت میں حقیقی بہتری کے لیے شفافیت، میرٹ اور مؤثر نگرانی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نئی قیادت ان اصولوں کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو موجودہ تبدیلیاں ایک مثبت سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں، بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی طرح ایک عارضی انتظامی ردوبدل بن کر رہ جائیں گی۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ آیا سندھ کا محکمہ صحت واقعی ایک نئے اور مؤثر نظام کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button