پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم کی پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت

یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی اور ایک چوتھائی سمندری تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

سیدعاطف ندیم-پاکستان،وائس آ ف جرمنی اردو نییوز

شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایات منگل کے روز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کی گئیں، جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین، طلب و رسد اور کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے گئے، جس کے بعد عالمی سطح پر ایندھن کی ترسیل متاثر ہوئی۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں خلل نے تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا، کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی اور ایک چوتھائی سمندری تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

حکومت پاکستان نے اس صورتحال کے پیش نظر 9 مارچ کو کفایت شعاری کے غیر معمولی اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں ابتدائی طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ بھی شامل تھا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے بعد ازاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تین مختلف تجاویز کو مسترد کر دیا، تاکہ عوام پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔

اجلاس میں کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی سفارشات پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔

وزیراعظم کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور دیگر کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے عوام کو تقریباً 129 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بروقت حکومتی فیصلوں کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی فوری بحران کا خطرہ نہیں۔

اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی، طلب اور ترسیلی نظام کی نگرانی کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس نظام کا مقصد نہ صرف شفافیت کو یقینی بنانا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ قلت یا بے ضابطگی کی فوری نشاندہی بھی کرنا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ مستقبل میں بھی اس حوالے سے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے تناظر میں مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button