پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

گورنر خیبر پختونخوا کا لاہور کے مذہبی و تاریخی مقامات کا دورہ داتا دربار اور بادشاہی مسجد میں حاضری، انتظامات پر اطمینان کا اظہار

دورے کے دوران گورنر نے بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ بھی ادا کی، جہاں بڑی تعداد میں شہری بھی موجود تھے۔

مدثر درانی-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے لاہور کے معروف مذہبی اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے داتا دربار اور بادشاہی مسجد میں حاضری دی اور عبادات بھی ادا کیں۔
گورنر کے ہمراہ محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل حافظ انیس الرحمن بھی موجود تھے، جنہوں نے گورنر کا استقبال کیا اور انہیں دونوں مقامات کا تفصیلی دورہ کروایا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے داتا دربار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور ملک کی سلامتی و خوشحالی کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر ڈی جی اوقاف حافظ انیس الرحمن نے گورنر کو مزار پر جاری ترقیاتی منصوبوں، زائرین کے لیے سہولیات، اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
گورنر کو بتایا گیا کہ زائرین کی سہولت کے لیے جدید انتظامات کیے جا رہے ہیں، جن میں سیکیورٹی، صفائی اور رہنمائی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔
دورے کے دوران گورنر نے بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ بھی ادا کی، جہاں بڑی تعداد میں شہری بھی موجود تھے۔
نماز کے بعد انہوں نے عوام سے ملاقات کی اور مذہبی ہم آہنگی، امن اور بھائی چارے کے فروغ پر زور دیا۔
ڈی جی اوقاف نے گورنر کو بادشاہی مسجد میں جاری ترقیاتی کاموں اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے اور زائرین کے لیے سہولیات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے دونوں مقامات پر انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات پر بہترین سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خصوصی طور پر انہوں نے ڈی جی اوقاف حافظ انیس الرحمن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ زائرین کی سہولت کے لیے کیے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں۔
گورنر نے اس موقع پر کہا کہ داتا دربار اور بادشاہی مسجد جیسے تاریخی و مذہبی مقامات نہ صرف روحانی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ یہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کا بھی اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسے مقامات کی دیکھ بھال اور بہتری کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے تاکہ مقامی اور غیر ملکی زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
نتیجہ
گورنر خیبر پختونخوا کا یہ دورہ مذہبی ہم آہنگی اور بین الصوبائی روابط کو فروغ دینے کی ایک مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اس دورے سے نہ صرف مذہبی مقامات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت ملک بھر میں مذہبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button