پاکستاناہم خبریں

اسلام آباد مذاکرات میں عالمی وفود کی آمد، پاکستان کا ویزا آن ارائیول کا اعلان

آج ابتدائی ملاقات میں آئندہ اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ باضابطہ بات چیت کا عمل منظم انداز میں آگے بڑھ سکے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم بین الاقوامی مذاکرات کے پیش نظر غیر ملکی مندوبین اور صحافیوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شرکت کے لیے آنے والے تمام ممالک کے مندوبین اور میڈیا نمائندگان کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس سلسلے میں ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے افراد کو بغیر ویزا بورڈنگ کی اجازت دی جائے تاکہ آمد کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان پہنچنے پر امیگریشن حکام ان غیر ملکی شرکا کو فوری طور پر ویزا جاری کریں گے، جس سے نہ صرف سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی بلکہ پاکستان کی جانب سے عالمی برادری کے ساتھ تعاون اور کھلے پن کا پیغام بھی جائے گا، جو اس اہم موقع پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود آج وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے ۔
آج ابتدائی ملاقات میں آئندہ اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی تاکہ باضابطہ بات چیت کا عمل منظم انداز میں آگے بڑھ سکے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مذاکرات ایک محفوظ اور خفیہ مقام پر ہوں گے جہاں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہوگی، تاہم اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بالمشافہ ملاقات بھی ہو سکتی ہے، جو اعتماد سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ان مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک ہوں گے، جبکہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ان کے ساتھ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
اسی طرح ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر پارلیمان محمد باقر قالیباف کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی کے خدوخال طے کرنے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ پاکستان بطور میزبان اور ثالث فریقین کو قریب لانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن اور استحکام کے لیے بھی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور جنگ کئی ہفتوں سے جاری ہیں اور خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، جہاں ایک جانب عالمی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا رہا ہے اور دوسری جانب خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button