
تعلقات میں تناؤ کے درمیان مارکو روبیو کا مجوزہ دورہ بھارت
توقع ہے کہ روبیو مئی میں بھارت کے دورے کے دوران انہی موضوعات پر تفصیل سے بات کریں گے۔
مہیما کپور
گور نے لکھا، ”وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید وکرم مسری! سیکرٹری روبیو کے ساتھ ایک مفید ملاقات ہوئی، جس میں ہمارے دوطرفہ تعلقات، خاص طور پر تجارت، اہم معدنیات، دفاع اور کواڈ پر بات چیت ہوئی۔ سیکرٹری روبیو اگلے ماہ بھارت کے دورے کے منتظر ہیں!‘‘
اس پیغام کے ساتھ تینوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی۔
توقع ہے کہ روبیو مئی میں بھارت کے دورے کے دوران انہی موضوعات پر تفصیل سے بات کریں گے۔
بھارتی سفارتکار وکرم مسری آٹھ اپریل کو واشنگٹن پہنچے تھے، جس دن امریکہ ایران جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ روبیو سے ملاقات سے پہلے مسری نے امریکی محکمہ خارجہ کی سیاسی امور کی انڈر سیکریٹری ایلیسن ہوکر سے بھی ملاقات کی۔
بھارت کے سرکاری ریڈیو کے مطابق مسری اور ہوکر نے دونوں ممالک کے دوطرفہ ایجنڈے پر گفتگو کی اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
تعلقات میں ایک تناؤ
واشنگٹن نے اپنے اتحادیوں کو روسی اور ایرانی تیل سے دور رکھنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیوں کے باعث 2025ء میں بھارت کی روسی خام تیل کی درآمدات میں کمی آ گئی تھی۔
گذشتہ کئی ماہ، ایک جنگ اور ایک عارضی رعایت کے بعد اب بھی یہ سوال برقرار ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو مئی میں بھارت کا دورہ کریں گے تو کیا تیل دوبارہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان اختلاف کا نکتہ بن جائے گا؟
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے پہلے بھارت کو اور پھر باقی دنیا کو روسی خام تیل خریدنے کی عارضی اجازت (ویور) دی۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکیں، کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایران کے خلاف مہم کے باعث خلیج سے تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارتی حکام نے تصدیق کی کہ وہ روس سمیت ہر ممکن دستیاب ذرائع سے خام تیل اور ایل پی جی خرید رہے ہیں۔
آٹھ اپریل کو کئی رپورٹس میں کہا گیا کہ بھارت سات سال بعد ایران سے اپنی پہلی تیل کی کھیپ وصول کرنے والا ہے۔ بھارت نے امریکی پابندیوں کے باعث مئی 2019 کے بعد سے ایران سے خام تیل خریدنا بند کر دیا تھا۔

تیل کی خریداری، سفارتی تنازع
فروری میں امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو نے اسے ایک سفارتی کامیابی قرار دیا تھا، جب بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا ‘عزم‘ ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے یہ بات اس وقت کہی، جب انہوں نے اگست 2025ء میں بھارت پر عائد 25 فیصد تعزیری ٹیرف واپس لے لیے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بھارت دوبارہ روسی تیل خریدنے لگا تو یہ ٹیرف دوبارہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
اگرچہ بھارت نے اس عزم کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی، لیکن بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی ریفائنریوں نے وینزویلا کے خام تیل کی خریداری کو چھ سال کی بلند ترین سطح تک بڑھا دیا۔
فروری میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس حوالے سے کہا تھا کہ بھارت اپنی ”اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ پر قائم ہے اور وہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرے گا۔
نئی دہلی اور واشنگٹن سکیورٹی، تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی اتحادی ہیں۔ تاہم تیل کی خریداری، ٹرمپ کے ٹیرف اور ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان سفارتی اختلافات نے گزشتہ ایک سال کے دوران تعلقات میں ایک تناؤ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔



