
ایران کے اندرونی اختلافات، اسلام آباد مذاکرات اور جنگ بندی کے مستقبل پر منڈلاتے خطرات
اندرونی طور پر ایران میں دو واضح دھڑے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو برتری حاصل ہے اور اسے دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مزید سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے
By www.vogurdunews.de
جہاں ایک جانب اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم اور حساس نوعیت کے مذاکرات جاری ہیں، وہیں دوسری جانب ایران کے اندرونی حالات اس سفارتی عمل اور جاری جنگ بندی کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے بڑا خطرہ بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ ایران کے اندر موجود ان عناصر سے ہے جو مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر جنگی حالات نے ایران میں ایک متحد نظام کا تاثر ضرور پیدا کیا ہے، تاہم اس کے پس پردہ اختلافات واضح طور پر موجود ہیں۔ ایرانی قیادت اس وقت ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں ایک طرف جنگ بندی کو قائم رکھنا ضروری ہے، تو دوسری طرف داخلی سطح پر سخت گیر حلقوں کو مطمئن رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اندرونی طور پر ایران میں دو واضح دھڑے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو برتری حاصل ہے اور اسے دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مزید سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے، جبکہ دوسرا گروہ مذاکرات اور پائیدار امن کا حامی ہے۔ تاہم امن کے حامی عناصر کو کمزور یا “مصالحت پسند” قرار دیے جانے کا خدشہ ہے، جس سے ان کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے حالیہ بیان میں بھی اس تناؤ کی جھلک نمایاں ہے، جس میں فریقین کو اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ قیادت کو اندرونی تقسیم کا سنجیدہ خدشہ لاحق ہے۔
ماضی میں ایسے اختلافات کو سپریم لیڈر کے دفتر کے ذریعے بآسانی حل کر لیا جاتا تھا، مگر موجودہ صورتحال زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر مجتبی خامنئی کی عوامی منظرنامے سے غیر موجودگی نے قیادت کے استحکام اور اثر و رسوخ کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی مضبوط اور مؤثر ثالث کی عدم موجودگی معمولی اختلافات کو بڑے بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔
زمینی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک ایرانی سیاسی کارکن کے مطابق حکومت کو عوامی بے چینی کا سامنا ہے، جبکہ سخت گیر عناصر مزید سخت اقدامات کی طرف جا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض حامی گروہوں میں اسلحہ تقسیم کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ نوجوانوں کی سڑکوں پر موجودگی حکام کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
معاشی عوامل بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس عسکری صلاحیت تو موجود ہے، مگر طویل جنگ کے لیے درکار معاشی وسائل محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری اور سیاسی و انتظامی دھڑوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، جو فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کر رہی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال نئی نہیں۔ ایران عراق جنگ کے دوران بھی جنگ بندی کے فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ اس وقت روح اللہ خامنیئی نے خود اسے “زہر کا پیالہ” قرار دے کر قبول کیا تھا۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں امن کی جانب قدم بڑھانا ہمیشہ داخلی سطح پر ایک حساس معاملہ رہا ہے۔
دوسری جانب کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ سیاسی کارکن رضا علیجانی کے مطابق پاکستان نے کھل کر جبکہ چین نے پس پردہ ایران کو مذاکرات کی طرف مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم ان کے مطابق اصل دباؤ ایران کی اپنی معاشی اور عسکری حدود سے پیدا ہوا ہے۔
ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر سے وابستہ سابق عہدیدار بابک دربیکی کے مطابق پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اسلام آباد مذاکرات محض عارضی بحران کے حل تک محدود نہ رہیں بلکہ تعلقات کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی طرف پیش رفت کریں۔ ان کے مطابق ایران کو نظریاتی محاذ آرائی کم کرنا ہوگی، علاقائی سلامتی کا نیا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا اور اپنی پالیسیوں کو اس انداز میں ترتیب دینا ہوگا کہ نظام کی بقا بیرونی کشیدگی پر منحصر نہ رہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی قیادت کے کچھ حلقے بیرونی کشیدگی کو اپنے داخلی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث امن کا عمل پیچیدہ اور طویل ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر نہیں بلکہ ایران کے اندر موجود مختلف بااثر حلقوں کے درمیان اتفاق رائے پر بھی ہے۔ ایک نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے داخلی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور سنجیدہ سفارتی کوششیں ناگزیر ہوں گی۔



