
بعد میں میرس کے ترجمان نے اس گفتگو کے بارے میں ایک پریس ریلیز جاری کی۔ اس کے آخری دو جملوں میں کہا گیا، ”گفتگو میں چانسلر نے فلسطینی علاقوں میں حالیہ پیش رفت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مغربی کنارے کا عملاً جزوی الحاق نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی چانسلر کے اکاؤنٹ سے جرمن اور انگریزی دونوں زبانوں میں یہی پیغام شیئر کیا گیا، ”میں نے واضح کر دیا، مغربی کنارے کا عملی الحاق نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ مثال کے طور پر جولائی 2025 کے وسط میں دونوں سربراہانِ حکومت کے درمیان ہونے والی ایک فون کال کے بعد جرمن حکومت نے کہا تھا کہ چانسلر نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مغربی کنارے کے الحاق کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔

جرمن چانسلر کے بیان پر تنقید
لیکن اس بار جرمنی کے اس انتباہ کے بعد زبانی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا، جب اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالل اسموٹریچ نے سوشل میڈیا پر میرس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ”وہ دن گزر چکے جب جرمن یہ طے کرتے تھے کہ یہودی کہاں رہ سکتے ہیں اور کہاں نہیں۔آپ ہمیں دوبارہ پسماندہ بستیوں (گھیٹوز) میں قید نہیں کر سکتے، خاص طور پر ہماری اپنی سرزمین میں۔‘‘
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات رواں برس موسم خزاں میں متوقع ہیں اور اس تناظر میں اسموٹریچ سیاسی طور پر خود کو نیتن یاہو سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان اسرائیل میں ہولوکاسٹ یادگاری دن سے ایک روز قبل دیا۔

برلن میں اسرائیلی سفیر کی میرس کی حمایت
برلن میں اسرائیل کے سفیر ران پروسر نے اسموٹریچ کے مؤقف سے اختلاف کیا اور اسرائیلی نشریاتی ادارے ‘کان‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے میرس کو ‘اسرائیل کا ایک عظیم دوست‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جرمنوں سے اختلاف کرنا ممکن اور جائز ہے، تاہم یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیانات ہولوکاسٹ کی یاد کو نقصان پہنچاتے ہیں اور حقیقت کو مسخ کرتے ہیں۔
پروسر نے اسموٹریچ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ہولوکاسٹ کے سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک اسرائیلی وزیر کی جانب سے جرمن چانسلر پر یہ غیر معمولی تنقید دراصل چند ہفتے پہلے ہونے والی ایک اور سفارتی کشیدگی کی جھلک تھی۔ مارچ کے آخر میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے اسرائیل میں جرمن سفیر کے اس سوشل میڈیا بیان پر سخت ردِعمل دیا تھا، جس میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی دیہاتیوں پر تشدد کا ذکر کیا گیا تھا۔
حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پر ہونے والی یہ تلخ بحثیں صرف آن لائن ماحول کی سختی نہیں دکھاتیں بلکہ جرمنی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی جانب نشاندہی بھی کرتی ہیں۔
جرمنی اور اسرائیل کے درمیان آخری مشترکہ حکومتی مشاورت 2018 میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔
جرمنی بار بار کہتا رہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ بھی ان متنازعہ اسرائیلی بستیوں کو امن معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں متعدد فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔



