
ایران جنگ کی ویڈیوز نشر کرنے پر کویتی امریکی صحافی گرفتار
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس صحافی پر وہ خبریں پھیلانے کا الزام ہے جنہیں حکام فیک نیوز قرار دے رہے ہیں۔ کویتی حکام نے اس معاملے پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ صحافی احمد شہاب الدین گزشتہ چھ ہفتوں سے لاپتہ ہیں۔ وہ مارچ کے آغاز میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے کویت گئے تھے۔
شہاب الدین کے پاس امریکی اور کویتی دوہری شہریت ہے اور وہ سی این این، پی بی ایس اور الجزیرہ سمیت مختلف نیوز چینلز کے لیے رپورٹنگ کر چکے ہیں، جبکہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے لیے بھی لکھتے رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہو چکے ہیں اور اکثر انسانی حقوق کے مسائل پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔
اپنے بلاگ میں انہوں نے ایران جنگ کے بارے میں تبصرہ کیا تھا اور ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس کی تصدیق سی این این نے کی تھی، جس میں کویت میں امریکی لڑاکا طیارے کے گرنے کو دکھایا گیا تھا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس صحافی پر وہ خبریں پھیلانے کا الزام ہے جنہیں حکام فیک نیوز قرار دے رہے ہیں۔ کویتی حکام نے اس معاملے پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں میں آزادی صحافت شدید طور پر محدود ہے۔ خبر رساں ادارے سخت سنسرشپ کے تحت کام کرتے ہیں اور حکومتی موقف سے ہٹ کر تنقیدی رپورٹنگ کرنے والوں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں عوام کو ایرانی حملوں کی تصاویر پھیلانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، جبکہ قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی ایران جنگ کے حوالے سے ایسے واقعات میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
کویت میں چند ہفتے قبل ایک نیا قانون نافذ ہوا تھا، جس کے تحت فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں پر اعتماد کو نقصان پہنچانے والی خبروں یا جھوٹی افواہوں کے پھیلاؤ پر 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
سی پی جے اور دیگر تنظیموں کے مطابق یہ سب کچھ دراصل آزاد صحافیوں کی آواز دبانے کا طریقہ ہے۔

اب تک سینکڑوں گرفتاریاں
سی پی جے کے مطابق خلیجی خطے میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے کیونکہ حکومتیں ایرانی حملوں کے اثرات دکھانے والی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جن میں مادی نقصان یا دفاعی کارروائیوں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
اس تنظیم کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو بھی ایسی فوٹیج بنانے پر زیادہ سخت نگرانی کا سامنا ہے اور بعض ممالک میں انہیں جنگی نقصان یا حساس مقامات کی تصاویر لینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
اگرچہ حکام نے ان اقدامات کو سلامتی کے خدشات سے جوڑا ہے، لیکن پریس کی آزادی کے لیے سرگرم تنظیموں نے اسے میڈیا پر بڑھتی ہوئی سنسرشپ قرار دیا ہے۔
سی پی جے کے بیان کے مطابق حکام نے کویتی صحافی پر غلط معلومات پھیلانے، قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور موبائل فون کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں، جنہیں اس تنظیم نے مبہم اور حد سے زیادہ پھیلے ہوئے قرار دے کر کہا ہے کہ ایسے الزامات اکثر آزاد صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سی پی جے نے بتایا کہ اس نے واشنگٹن میں کویتی سفارت خانے سے رابطہ کیا مگر فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سی پی جے کی علاقائی ڈائریکٹر سارہ قدح نے کہا، ”ہم کویت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ احمد شہاب الدین کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام الزامات واپس لیے جائیں۔‘‘



