یورپاہم خبریں

2025 میں عالمی سطح پر سام دشمن تشدد میں خطرناک اضافہ، 30 سالوں میں سب سے زیادہ یہودی ہلاک — نئی رپورٹ

نیویارک اور برطانیہ میں جنگ بندی کے بعد سام دشمن واقعات میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔

دنیا بھر میں سام دشمنی (اینٹی سیمیٹزم) کے بڑھتے ہوئے رجحان پر ایک تشویشناک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق سال 2025 میں پرتشدد سام دشمن حملوں میں ہلاک ہونے والے یہودیوں کی تعداد گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ رہی۔

تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اس سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 کے دوران کم از کم 20 یہودی چار مختلف حملوں میں قتل کیے گئے۔ ان میں سب سے ہولناک واقعہ سڈنی میں ہنوکا کے موقع پر پیش آیا، جہاں ایک حملے میں 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحان

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 کے مقابلے میں، جب غزہ جنگ شروع بھی نہیں ہوئی تھی، 2025 میں تقریباً تمام مغربی ممالک میں سام دشمنی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب ایک طرف غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں، اور دوسری جانب اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ کشیدگی بھی سامنے آئی۔

امریکہ اور برطانیہ میں واقعات

نیویارک اور برطانیہ میں جنگ بندی کے بعد سام دشمن واقعات میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔

برطانیہ میں:

  • 2024 میں 3,556 واقعات رپورٹ ہوئے
  • 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 3,700 ہو گئی
  • ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جس میں کار سے ٹکرانے اور چاقو کے استعمال کے واقعات شامل تھے

امریکہ میں:

  • واشنگٹن ڈی سی میں ایک یہودی میوزیم کے باہر فائرنگ میں اسرائیلی سفارت خانے کے دو اہلکار ہلاک ہوئے
  • کولوراڈو میں ایک مظاہرے پر مولوٹوف کاک ٹیل اور آگ پھینکنے والے ہتھیار سے حملہ کیا گیا

یورپ میں صورتحال

فرانس میں مجموعی واقعات میں کمی آئی، لیکن جسمانی تشدد بڑھ گیا:

  • 2024: 1,570 واقعات
  • 2025: 1,320 واقعات
  • تشدد کے کیسز: 106 سے بڑھ کر 126

جرمنی میں واقعات میں کمی دیکھی گئی:

  • 2024: 6,560
  • 2025: 5,729
    تاہم یہ تعداد 2022 (2,811) کے مقابلے میں اب بھی بہت زیادہ ہے۔

سیاسی تناظر اور تنقید

رپورٹ میں اسرائیل کی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس پر الزام ہے کہ وہ سام دشمنی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہی۔
مزید یہ کہ رپورٹ کے مطابق، سام دشمنی کی تعریف کو سیاسی مقاصد کے لیے وسیع کیا جا رہا ہے، جس سے اس اصطلاح کی سنجیدگی متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا:

"سام دشمنی کا لیبل نہایت حساس ہے اور اسے صرف واضح اور ٹھوس بنیادوں پر استعمال کیا جانا چاہیے۔”

امریکی سیاست میں تشویش

رپورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقوں میں سام دشمن بیانیے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی۔
اگرچہ رپورٹ میں ٹرمپ کی کچھ خارجہ پالیسیوں کی تعریف کی گئی، لیکن ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ انہوں نے ایسے سیاسی عناصر کو برداشت کیا جو سازشی نظریات اور سام دشمن خیالات سے متاثر ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
"امریکہ میں سام دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔”

نتیجہ

رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں بڑی یہودی آبادی رکھنے والے معاشروں میں سام دشمنی اب ایک "نارمل” مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو عالمی سطح پر سماجی ہم آہنگی اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس رجحان کو روکنے کے لیے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ سیاسی قیادت اور معاشرتی سطح پر بھی سنجیدہ اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button