پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان نے عالمی بینک فورم پر وزیراعظم رمضان پیکیج کی ڈیجیٹل فراہمی کا ماڈل پیش کر دیا

یہ اقدام حکومتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے جس کے تحت اشیاء پر مبنی روایتی سبسڈی کے بجائے اب قومی سماجی و معاشی رجسٹری کے ڈیٹا کی بنیاد پر براہِ راست ڈیجیٹل کیش منتقل کیا جا رہا ہے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: حکومت پاکستان کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے عالمی بینک کے ایک خصوصی فورم میں ڈیجیٹل سماجی تحفظ کے شعبے میں اپنی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام عامر علی احمد نے سال 2025 اور 2026 کے دوران وزیراعظم رمضان ریلیف پیکیج کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے فراہمی کے حکومتی تجربات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام حکومتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے جس کے تحت اشیاء پر مبنی روایتی سبسڈی کے بجائے اب قومی سماجی و معاشی رجسٹری کے ڈیٹا کی بنیاد پر براہِ راست ڈیجیٹل کیش منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف نظام میں شفافیت آئی اور فنڈز کے ضیاع میں کمی واقع ہوئی بلکہ مستحقین کی عزتِ نفس میں اضافہ ہوا اور انہیں اپنی ضروریات کے مطابق خریداری کا اختیار بھی ملا۔
اعداد و شمار کے مطابق پروگرام کے نتائج انتہائی مثبت رہے، جہاں امدادی رقم کی تقسیم کی شرح 2025 میں 79 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 89 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران فنڈز کی منتقلی، موبائل ٹاپ اپس، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور راست سسٹم کے ذریعے مجموعی طور پر 30 لاکھ 82 ہزار ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مکمل کی گئیں۔
ڈیجیٹل ماڈل نے خواتین کی مالی شمولیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 10 لاکھ 81 ہزار سے زائد خواتین نے اپنے ڈیجیٹل والٹس فعال کیے جبکہ 10 لاکھ 97 ہزار خواتین نے باقاعدہ بینکنگ چینلز کے ذریعے اپنی امداد وصول کی۔ مزید برآں، 2,632 معذور افراد نے بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کامیابی سے امداد تک رسائی حاصل کی۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری، بائیو میٹرک تصدیق اور موبائل کنیکٹیویٹی کے باہمی اشتراک نے بڑے پیمانے پر ہدف کے مطابق اور مؤثر ترسیل کو ممکن بنایا ہے۔
انہوں نے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان جون 2026 کے آخر تک بائیو میٹرک انٹرآپریبلٹی سسٹم کے تعاون سے سوشل پروٹیکشن والٹس کی جانب منتقل ہو جائے گا، جس سے ٹرانزیکشن لاگت میں کمی اور خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی۔
اس فورم کا افتتاح وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کیا، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک، بین الاقوامی مندوبین اور عالمی بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
عالمی سطح پر پاکستان کے اس تجربے کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جسے شفاف اور جامع سماجی تحفظ کے لیے دیگر ممالک میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button