پاکستاناہم خبریں

پاکستان کا عالمی تعاون کے فروغ میں نوجوان قیادت کے کلیدی کردار پر زور

پاکستانی یوتھ وفد نے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جاری قومی اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا جن میں گرین یوتھ موومنٹ اور نیشنل والنٹیئر کور شامل ہیں

مدثر احمد-امریکہ.وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اقوامِ متحدہ: وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام (PMYP) کے تحت نامزد پاکستان کے یوتھ وفد نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اقوامِ متحدہ اقتصادی و سماجی کونسل (ECOSOC) یوتھ فورم 2026 میں شرکت کی، جس کے ذریعے پاکستان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے فروغ میں اُن کی بامعنی شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا۔
فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران پاکستانی مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی قیادت کو محض علامتی شمولیت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے پالیسی سازی، جدت طرازی اور ادارہ سازی کے مرکز میں جگہ دی جائے۔
قومی بیانات میں انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے لہٰذا پاکستان نوجوانوں کو جامع ترقی، موسمیاتی مزاحمت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں شراکت دار سمجھتا ہے۔
انہوں نے پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 6 (صاف پانی اور نکاسیٔ آب) پر پاکستان کی توجہ کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ موسمیاتی دباؤ اور پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے آبی تحفظ نہ صرف ترقی کا ایک اہم پہلو ہے بلکہ یہ استحکام، مساوات اور پائیداری کا بھی امتحان ہے۔
پاکستانی یوتھ وفد نے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے جاری قومی اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا جن میں گرین یوتھ موومنٹ اور نیشنل والنٹیئر کور شامل ہیں، جو ماحولیاتی ذمہ داری اور کمیونٹی سطح پر موسمیاتی حل کو فروغ دیتے ہیں۔
انہوں نے نیشنل یوتھ ڈیولپمنٹ فریم ورک (عمر 10 تا 29 سال) کا بھی ذکر کیا جو نیشنل یوتھ کونسل کی قیادت میں مشاورت کے ذریعے تیار کیا گیا، جبکہ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کے لیے ڈیجیٹل یوتھ ہب کی معاونت کو بھی نمایاں کیا۔
اپنی تقاریر میں مندوبین نے زور دیا کہ پانی اور صفائی کے شعبے میں پیش رفت ایک معاون عالمی ماحول اور مشترکہ آبی وسائل کے ذمہ دارانہ انتظام پر بھی منحصر ہے۔
انہوں نے تین ترجیحات کی نشاندہی کی: مشترکہ آبی وسائل پر مساوات اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو مضبوط بنانا؛ پانی کے تحفظ، صفائی اور موسمیاتی موافقت میں نوجوانوں کی قیادت میں جدت طرازی میں سرمایہ کاری؛ اور علاقائی شراکت داریوں کو فروغ دینا تاکہ پانی پائیدار ترقی اور امن کا ذریعہ بن سکے۔
مندوبین نے تعلیم، روزگار، سماجی شمولیت اور ماحولیات کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مواقع میں اضافے کے قومی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 7 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو ہنر کی تربیت دی گئی، 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے، اور 5 لاکھ 35 ہزار سے زائد افراد کو کاروباری اور زرعی قرضوں تک رسائی فراہم کی گئی۔
وفد نے شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بالخصوص نوجوان خواتین اور معذور نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، اور حکمرانی میں نوجوانوں کی شرکت، تعلیم اور باعزت روزگار میں سرمایہ کاری، اور امن سازی و موسمیاتی اقدامات میں نوجوان قیادت کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی وفد نے تین روزہ فورم کے دوران بھرپور شرکت کی، جس میں مکمل اجلاسوں میں حصہ لینا، موضوعاتی اور ذیلی تقاریب میں شرکت، متوازی اجلاسوں میں مباحثوں کی نظامت، اور اہم شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ و کثیرالجہتی ملاقاتیں شامل تھیں۔
وفد نے ECOSOC یوتھ فورم کے صدر، اقوامِ متحدہ کے یوتھ آفس کی اعلیٰ قیادت (اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل سطح)، اسلامی تعاون یوتھ فورم (ICYF) کے صدر، زیمبیا کے وزیرِ امورِ نوجوانان، اور سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، برطانیہ اور فرانس کے نوجوان نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور بہترین تجربات کا تبادلہ ہو سکے۔
پاکستانی وفد میں مسٹر امسال زمان (ڈپٹی ڈائریکٹر، PMYP)، محترمہ بسمہ قمر (رکن، نیشنل یوتھ کونسل – امریکہ چیپٹر)، مسٹر فخر جبران (رکن، نیشنل یوتھ کونسل – آزاد جموں و کشمیر چیپٹر)، مسٹر فساحت الحسن (کوارڈینیٹر برائے چیئرمین PMYP برائے OIC)، اور مسٹر رحیم ستار (یوتھ ڈیلیگیٹ، شکاگو) شامل تھے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ECOSOC یوتھ فورم 2026 میں پاکستانی یوتھ وفد کی شرکت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور عالمی ترقیاتی مباحث میں اُن کی بامعنی شمولیت کو یقینی بنانے کے قومی عزم کی عکاس ہے جبکہ ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کی قیادت میں حل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button