
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
22 اپریل 2025 کو پہلگام کی پُرسکون وادی میں پیش آنے والے واقعے کو مختلف حلقوں کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ان دعوؤں کے مطابق یہ ایک منظم سازش تھی جس میں بھارت نے مبینہ طور پر اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کو سیاسی و مالی مفادات، خصوصاً رافیل سمیت دفاعی معاہدوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق بھارتی حکومت نے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ماضی کے طریقہ کار کو دہراتے ہوئے اس واقعے کو ایک بیانیے کے طور پر پیش کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد ایف آئی آر کے اندراج کی رفتار اور نوعیت نے شکوک کو جنم دیا جس سے اسے ایک طے شدہ منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے علاقے میں جہاں سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج تعینات ہے، سیکیورٹی میں مبینہ نرمی نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کا باآسانی آنا اور نکل جانا بھی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین بھارت پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ ماضی میں اڑی 2016ء اور پلوامہ 2019ء جیسے واقعات میں بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔
بیانات میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے لیے سیاسی مفادات کو انسانی جانوں پر ترجیح حاصل ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی شفاف اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی گئی جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔
دوسری جانب کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اس واقعے کے بعد بھارت کے مؤقف کو متوقع پذیرائی نہیں ملی۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ممکنہ طور پر بہار کے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی کے واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔



