یورپتازہ ترین

ایران تنازع نے یوکرین جنگ سے عالمی توجہ ہٹا دی، زیلنسکی کا انتباہ

اگرچہ امریکہ اس وقت ایران کے معاملے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ یوکرین کو نظر انداز نہ کیا جائے

By VOG Urdu News Team
کیف:زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے عالمی توجہ کو یوکرین کے خلاف روس کی جاری جارحیت سے ہٹا دیا ہے، جسے انہوں نے ایک "بڑا خطرہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں جنگ کو نظر انداز کرنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز کیف میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ یہ سوچنا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں اس وقت تک مؤخر رہیں جب تک ایران کا تنازع ختم نہیں ہو جاتا، ایک سنگین غلطی ہے۔ ان کے مطابق، "یوکرین ‘بعد میں’ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک جاری سانحہ ہے جسے فوری توجہ درکار ہے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم، جس کی قیادت سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کر رہے ہیں، بیک وقت ایران اور یوکرین دونوں معاملات کو سنبھال رہی ہے۔ زیلنسکی کے مطابق، یہ صورتحال سفارتی توجہ کو تقسیم کر رہی ہے، جس کا اثر یوکرین کے مفادات پر پڑ سکتا ہے۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکہ اس وقت ایران کے معاملے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ یوکرین کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی طاقتوں کو بیک وقت دونوں بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے یوکرین کو درپیش دفاعی چیلنجز کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر اینٹی بیلسٹک میزائلوں کی کمی کا۔ ان کے مطابق، امریکہ میں محدود پیداواری صلاحیت کے باعث یوکرین کو مطلوبہ مقدار میں دفاعی نظام فراہم نہیں کیے جا رہے، جس سے ملک کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
اسی دوران،یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے اہم قرض کی منظوری کو زیلنسکی نے "زندگی اور بقا” کا سوال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مالی امداد کے بغیر یوکرین اپنی دفاعی پیداوار بڑھانے میں مشکلات کا شکار ہے۔
یہ قرض کئی مہینوں سے تاخیر کا شکار تھا، جس کی بڑی وجہ وکٹر اوربان کی مخالفت تھی۔ انہوں نے یوکرین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روسی تیل کی یورپ کو ترسیل بحال کرے۔ تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد رکاوٹ دور ہوئی اور ڈروزہبا پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی گئی۔
زیلنسکی نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث یوکرین اپنی دفاعی صنعت کی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین اس وقت روزانہ تقریباً 1,000 ڈرون انٹرسیپٹرز تیار کر رہا ہے، حالانکہ اس کی پیداواری صلاحیت 2,000 یومیہ تک ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "یہ واقعی ہماری زندگی اور بقا کا سوال ہے۔ ہمیں اپنے دفاع کے لیے فوری طور پر ان وسائل کی ضرورت ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی سطح پر بیک وقت کئی تنازعات کا ابھرنا بین الاقوامی توجہ اور وسائل کو تقسیم کر رہا ہے، جس کا اثر یوکرین جیسے جنگ زدہ ممالک پر پڑ سکتا ہے۔ زیلنسکی کا یہ بیان اسی تناظر میں عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ یوکرین کو نظر انداز کرنا مستقبل میں مزید پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button