اے پی کے ساتھ
ایسا خاص طور پر اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں یورپی ممالک، خاص طور پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل یورپی ریاستوں کی طرف سے بھی امریکہ کا ساتھ نہ دیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناراض ہیں۔
وہ ایک سے زائد مرتبہ دھمکیاں دے چکے ہیں کہ امریکہ نیٹو سے نکل بھی سکتا ہے، کیونکہ یورپی ممالک نے بالعموم اور نیٹو کے رکن یورپی ممالک نے بالخصوص ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا اور ”نیٹو ایک عسکری اتحاد کے طور پر امریکہ کا اس وقت عملی معاون نہ بنا، جب واشنگٹں کو اس معاونت کی ضرورت تھی۔‘‘

موجودہ حالات میں یورپی ممالک کے رہنما اس بدلی ہوئی امریکی سوچ کے قائل ہو چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی ترجیحات میں اس وقت یورپ کی جگہ کہیں نہیں اور یہ ترجیحات دراصل ‘کہیں اور‘‘ ہیں۔
قبرص سمٹ میں ‘آپریشنل پلان‘ پر غور
اس تناظر میں یورپی یونین کا ایک سربراہی اجلاس آج جمعرات 23 اپریل کی شام اس بلاک کی رکن جزیرہ ریاست قبرص میں ہو رہا ہے، جس میں شریک رہنما ایک ایسے ‘آپریشنل پلان‘ یا ‘عملی منصوبے‘ پر غور کریں گے، جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ یہ بلاک بحرانی حالات میں اپنے رکن ممالک کی عسکری طاقت، سکیورٹی، تجارتی پالیسی اور دیگر وسائل کو یکجا کر کے یونین کے اجتماعی مفاد کے لیے کیسے استعمال کر سکتا ہے۔
قبرص میں اہتمام کردہ اس بلاک کی سمٹ کے مقصد سے متعلق یہ تفصیلات جمہوریہ قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولیڈیس نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتائیں۔

ساتھ ہی قبرصی صدر نے کہا کہ اگلے ماہ کے وسط میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے مندوبین ایسی ‘ٹیبل ٹاپ مشقوں‘ میں بھی شامل ہوں گے، جن کے مقصد یہ ہو گا کہ اس یورپی بلاک کے معاہدوں کے آرٹیکل 42.7 کے تحت بحرانی حالات میں کسی بھی رکن ریاست کی باقی تمام رکن ممالک کسی طرح مل کر عملی مدد کر سکتے ہیں۔
اس ممکنہ منظر نامے کی ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ فرض کیا جائے کہ روس کی طرف سے اگر یونین کے کسی رکن ملک پر حملہ یا وہاں فوجی مداخلت کی جائے، تو بلاک کے رکن باقی تمام ممالک اس یورپی ریاست کی اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کس طرح عملی مدد کر سکیں گے؟
یورپی یونین کا آرٹیکل 42.7 کیا ہے؟
یورپی یونین کے بنیادی معاہدے کا آرٹیکل 42.7 اپنی نوعیت میں ویسا ہی ہے جیسے نیٹو معاہدے کی دستاویز کا آرٹیکل پانچ، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ سبھی رکن ریاستوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن نیٹو اور یورپی یونین کے یہ دونوں آرٹیکل بالکل ایک جیسے نہیں ہیں۔

یونین کا آرٹیکل 42.7 اس لیے وضع کیا گیا تھا کہ اس کا نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے ساتھ کوئی عملی تصادم نہ ہو۔ یہ معاملہ سلامتی کی ضمانت کا ہے اور نیٹو کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کم از کم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی طرف سے تو یورپ کو کوئی بڑی عملی ضمانت نہیں دی جا رہی۔
یورپی یونین کے آرٹیکل 42.7 کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں درج ہے کہ اس بلاک کے کسی بھی رکن ملک کی باقی رکن ممالک کو ہنگامی یا بحرانی حالات میں مل کر مدد تو کرنا چاہیے، تاہم یہ مدد ” اقوام متحدہ کے چارٹر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور نیٹو کے دائرہ کار کے اندر عائد ہونے والی ذمے داریوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘



