ایران میں سیاسی ہلچل کی افواہیں: قالیباف کے استعفے کی تردید، قیادت نے اتحاد کا پیغام دے دیا
ایمان شمسی کے مطابق، محمد باقر قالیباف بدستور اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے انجام دے رہے ہیں اور پارلیمانی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔
By VOG Urdu News Team
ایران کی سیاسی فضا میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اس وقت ہلچل مچ گئی جب سوشل میڈیا اور بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مبینہ استعفے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ تاہم حکام نے فوری طور پر ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
پارلیمنٹ کی سخت تردید
ایرانی پارلیمنٹ کے میڈیا اور ثقافتی امور کے مرکز کے سربراہ ایمان شمسی نے جمعہ کی شب ایک بیان میں واضح کیا کہ قالیباف کے استعفے سے متعلق خبریں محض افواہیں ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور سیاسی ماحول میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
ایمان شمسی کے مطابق، محمد باقر قالیباف بدستور اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے انجام دے رہے ہیں اور پارلیمانی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔
مذاکراتی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس بیان کے ذریعے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا گیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ اندرونی اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
اختلافات کی خبروں کا پس منظر
یہ افواہیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب ایرانی سیاسی حلقوں میں اندرونی اختلافات اور کشمکش سے متعلق رپورٹس گردش کر رہی تھیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں، بشمول چینل 12 اسرائیل، نے دعویٰ کیا کہ تہران ایک “گہرے اور سنگین بحران” سے گزر رہا ہے، جس سے اہم پالیسی فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ محمد باقر قالیباف، جنہوں نے مبینہ طور پر اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات میں کردار ادا کیا تھا، بعد میں بعض ادارہ جاتی دباؤ کے باعث پیچھے ہٹ گئے۔
جوہری پروگرام پر مبینہ اختلافات
کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ قالیباف کو اندرونی طور پر اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ مذاکرات میں جوہری پروگرام کو شامل کرنے کے خواہاں تھے، جسے بعض حلقے “ریڈ لائن” تصور کرتے ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی، اور حکام نے انہیں قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد افواہوں میں اضافہ
یہ تمام افواہیں اس وقت مزید شدت اختیار کر گئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کے اندر سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا۔
ان کے اس بیان کو بعض حلقوں نے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں تقسیم موجود ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ایرانی قیادت کا متحدہ مؤقف
تاہم ایرانی قیادت نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر محمد باقر قالیباف، اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ملک کے اندر کسی قسم کی تقسیم موجود نہیں۔
حکام کے مطابق، حکومت اور ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور قومی مفادات کے حوالے سے تمام فیصلے مشترکہ طور پر کیے جا رہے ہیں۔
سفارتی تناظر اور اثرات
ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی افواہیں ایسے وقت میں سامنے آنا جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہو، سفارتی عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ معلوماتی جنگ اور پروپیگنڈا بھی جدید سفارتکاری کا حصہ بن چکا ہے، جہاں افواہوں کے ذریعے سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
نتیجہ
ایران میں حالیہ افواہوں اور ان کی تردید نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں معلومات کا بہاؤ تیز اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اتحاد اور استحکام کا پیغام دیا جا رہا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر ایران کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں سفارتی اور عسکری کشیدگی عروج پر ہے۔




